یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

آدابِ مجلس

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3023

حضرتِ حق کے پیغام رساں نبی کریمﷺ نے فرمایا:
‘‘جس کام کے شروع میں بسم اللہ نہیں کی جاتی وہ ادھورا اور بے برکت رہتا ہے۔ دوسرے کاموں کی طرح جب آپ اپنے عزیز ، دوست، رشتہ دار یا کسی کاروباری ادارے کو خط لکھیں تو ‘‘بسم اللہ الرحمن الرحیم’’ ضرور لکھیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض حضرات پوری بسم اللہ کی بجائے 786 لکھ دیتے ہیں۔ اس سے پرہیز کیجئے ۔ اس لئے کہ خدا کے بتائے ہوئے ہر ہر لفظ میں برکت اور حکمت ہے۔
ہر خط میں اپنا پورا پتہ ضرور لکھئے ۔ پتہ لکھنے میں سُستی نہ کیجئے۔ ممکن ہے کہ مکتوب الیہ کو آپ کا پتہ یاد نہ رہا ہو یا اگر اس نے ڈائری میں لکھا ہوا ہے اور وہ ڈائری گُم ہو گئی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو خط کا جواب دینا ضروری ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے کوئی جواب طلب بات لکھی ہو۔ پتہ لکھنے سے انتظار کی زحمت اٹھانا نہیں پڑے گی۔ پتہ ہمیشہ صاف اور خوش خط لکھئے ۔ سرِ خط اپنے پتہ کے نیچے یا بائیں جانب تاریخ ضرور لکھئے ۔ تاریخ لکھنے کے بعد مختصراََ القاب و آداب کے ذریعے مکتوب الیہ کو مخاطب کیجئے۔ القاب و آداب ایسے لکھئے جس سے خلوص اور قربت محسوس ہو۔ ایسے القاب نہ لکھئے جن سے تسنع اور بناوٹ محسوس ہو۔ القاب کے نیچے دوسری سطر میں السلام علیکم لکھئیے۔ خط میں نہایت شستہ ،آسان اور سلجھی ہوئی زبان استعمال کیجئے۔ پورے خط میں مکتوبِ الیہ کے مرتبے کا خیال رکھئیے۔ غیر سنجیدہ باتوں سے پرہیز کیجئے۔ غصہ کے عالم میں خط کبھی نہ لکھیئے۔ کسی کا خط بغیر اجازت ہرگز نہ پڑھیئے۔ یہ بہت بڑی اخلاقی خیانت ہے۔
کوشش کیجئے کہ آپ کی کوئی مجلس خدا اور آخرت کے ذکر سے خالی نہ رہے اور جب آپ محسوس کریں کہ حاضرین دینی گفتگو میں دل چسپی نہیں لے رہے تو گفتگو کا رُخ حکمت کے ساتھ ایسے موضوع کی طرف پھیر دیجئے جس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اُسو ہ حسنہ کا تذکرہ ہو۔
مجلس میں ماتھے پر شکنیں ڈالے بیٹھے رہنا غرور کی علامت ہے۔ مجلس میں غمگین اور مضمحل ہو کر نہ بیٹھیئے۔مسکراتے چہرے کے ساتھ ہشاش بشاش ہو کر بیٹھیئے ۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 157 تا 158

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message