اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2931

جب ہم کسی چیز کی طرف دیکھتے ہیں تو طبی سائنس کی تحقیق کے مطابق اس چیز سے خارج ہونے والی روشنیاں آنکھوں کے ذریعہ دماغ کے معلوماتی ذخیرہ تک پہنچتی ہیں۔ ہم اس عمل کو دیکھنا کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ ہمارا علم داخلی ہے۔ اس داخلی علم کے کئی اَجزاء ہیں جسے باصرہ یا باصرہ کے علاوہ دیگر حِسوں کا نام دیا جاتا ہے اور یہی حِسیں مشاہدہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہ مشاہدات فکر سے شروع ہو کر دیکھنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے پر مکمل ہوتے ہیں۔ مشاہدات میں کسی جسمانی حرکت کو دخل نہیں ہوتا۔ یہ صرف انا کی تحریکات ہیں۔ مشاہدات میں مادّی اعضاء معطّل رہتے ہیں۔ فی الواقع زندگی ‘‘انا’’ کی تحریکات کا نام ہے۔ ‘‘انا’’ کے ہی جسم کو ‘‘روح مثالی’’ کہا جاتا ہے۔ یہی جسم خواب میں چلتا پھرتا او رسارے کام کرتا ہے۔ یہ ‘‘جسمِ انا’’ خاکی جسم کے ساتھ حرکت کرتا ہے اور بغیر خاکی جسم کے بھی۔
اعمال کی دو قسمیں ہیں:
ایک قسم اُن اعمال کی جو بغیر خاکی جسم کے انجام پاتے ہیں جیسے خواب کے اعمال۔ دوسری قسم کے اعمال وہ ہیں جو ہم بیداری میں خاکی جسم کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ ان اعمال کی إبتداء بھی ذہنی تحریکات سے ہوتی ہے۔ بغیر ذہن کی رہنمائی کے خاکی جسم ہلکی سے ہلکی جنبش نہیں کر سکتا۔ گویا داخلی تحریکات ہی زندگی کے اصل اعمال ہیں۔
اب ہم ‘‘انا’’ کی فاعلیت کا تجزیہ کرتے ہیں۔
زید نے محمود کو دیکھا۔ زید ایک ‘‘انا’’ ہے۔ وہ صرف اپنی انا کی حد میں دیکھ سکتا ہے۔ وہ اپنی انا کی حد سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا۔ گویا اس نے محمود کو اپنی حدِّ وُجود میں دیکھا ہے۔ مشاہدات کی زبان میں یوں کہا جائے گا کہ زید کی انا نے خود کو محمود بن کر دیکھا ہے کیونکہ زید محمود کی حد میں اور محمود زید کی حد میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ اگر زید محمود کی حد میں قدم رکھ سکتا تو اس کا نام زید نہیں رہتا بلکہ محمود بن جاتا اور اس کی اپنی انا تلف ہو جاتی۔ دیکھنے کا عمل جن حدود میں واقع ہوا وہ حدیں فقط زید کی انا سے وابستہ ہیں۔ دراصل ہر انا میں کائنات کی تمام انائیں موجو دہیں اور ہر انا ایک جداگانہ فرد کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔

انا کی تحلیل

خاکی دنیا کے ساتھ ایک دوسری دنیا بھی آباد ہے۔ یہ دوسری دنیا مذہب کی زبان میں ‘‘اعراف’’ یا ‘‘برزخ’’ کہلاتی ہے۔ اس دنیا میں زندگی بھر انسان کا آنا جانا ہوتا رہتا ہے۔ اس آنے جانے کے بارے میں بہت سی حقیقتیں انسان کی نگاہ سے چھپی ہوئی ہیں لیکن یہ آمد و رفت غفلت کی حالت میں واقع ہوتی ہے جب انسان سو جاتا ہے تو خاکی دنیا ملکوتی دنیا میں منتقل ہو جاتی ہے۔ چلتی پھرتی، کھاتی پیتی اور وہ سارے کام کرتی ہے جو بیداری کی حالت میں کر سکتی ہے۔ انسانوں نے اس کا نام خواب رکھا ہے لیکن کبھی اس حقیقت پر غور کرنے کی کوشش نہیں کی کہ خواب بھی زندگی کا ایک جُزو ہے۔
اس مقام پر کائنات کی ساخت کا مُجمّل تذکرہ کر دینا ضروری ہے۔ عام اِصطلاح میں جس کو جمادات کہا جاتا ہے وہ حیات کا ابتدائی ہیولیٰ ہے۔

کائنات کی ساخت

کائنات کی ساخت میں نَسمہ(نظر نہ آنے والی روشنی) ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ احاطہ کرنے سے مراد ہر مثبت اور منفی زندگی کی بساط میں نَسمہ کا محیط ہونا ہے۔ گویا ہر چیز کے کم ترین اور لانشان جُزو ‘‘لاتجزأ’’ کی بنیاد دو قسموں پر ہے۔ ایک اس کی منفیت اور دوسری اس کی إثباتیت۔ ان ہی دونوں صلاحیّتوں کی یکجائی کا نام نَسمہ ہے۔
ہم عام گفتگو میں لفظ پیاس استعمال کرتے ہیں لیکن اس لفظ کے جو معنی سمجھتے ہیں وہ غیر حقیقی ہیں۔ اصل میں پیاس اور پانی دونوں مل کر ایک وُجود بناتے ہیں۔ منفیت پیاس، إثباتیت پانی۔ واضح طور پر اس طرح کہنا چاہئے کہ پیاس روح ہے اور پانی جسم۔ پیاس ایک رخ ہے اور پانی دوسرا رخ۔ اگرچہ یہ دونوں رخ ایک دوسرے سے متضاد ہیں تا ہم ایک ہی وُجود کے دو اَجزاء ہیں۔ پیاس سے پانی کو اور پانی سے پیاس کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک دنیا میں پیاس موجود ہے پانی موجود ہے۔ یعنی پیاس کا ہونا پانی کے وُجود کی روشن دلیل ہے۔ اِسی طرح پانی کا ہونا پیاس کے وُجود کی روشن دلیل ہے۔ روحانیت میں یہ دونوں مل کر ایک وُجود ہیں لیکن ان کی پیوستگی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح نہیں ہے جس طرح ایک ورق کے دو صفحات کی۔ ایک ورق کے دو صفحات ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہو سکتے لیکن پیاس اور پانی کا وُجود ایک ایسا ورق ہے جس میں صرف مکانی فاصلہ ہے، زمانی فاصلہ نہیں ہے۔ اس کے برخلاف کاغذ کے ورق میں صرف زمانی فاصلہ ہے، مکانی فاصلہ نہیں ہے۔ اشیاء کی ساخت میں اللہ تعالیٰ نے دو رخ رکھے ہیں۔ کسی شئے کے دو رخوں میں یا تو مکانی فاصلہ نمایاں ہوتا ہے یا زمانی فاصلہ نمایاں ہوتا ہے۔ ایک آدمی کرۂ ارضی پر پیدا ہوتا ہے اور رحلت کرتا ہے۔ ان دونوں رخوں کے درمیان زمانی فاصلہ ہے۔ اس زمانی فاصلہ کے نقش و نگار اس کی زندگی ہیں، جو حقیقتاً مکانیت ہے۔

ظاہر و باطن

اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کی حیات کا زمانی رخ باطن اور مکانی رخ ظاہر ہے۔ ہم جس چیز کو ظاہر کہتے ہیں اس کے تمام نقش و نگار ‘‘مکانیتِ زندگی’’ پر مشتمل ہیں لیکن یہ جس بساط پر قائم ہیں وہ زمانیت ہے۔ بغیر زمانیت کی بساط کے کائنات کا کوئی نقش ظُہور میں نہیں آ سکتا۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ ان تمام مظاہر کی بساط زمانیت ہے جس کو ہم مادّی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام مظاہر کی بنیادیں ہماری آنکھوں سے مَخفی ہیں۔ تصوّف میں زمانیت کا دوسرا نام نَسمہ ہے۔ یہ ایسی روشنی ہے جس کو خلا کہہ سکتے ہیں۔ اور خلا ایک وُجود رکھتا ہے۔ دراصل یہ ایک حرکت ہے جو ازل سے ابد کی طرف حرکت کر رہی ہے۔ اس سفر کے پہلے دائرۂِ روانی کا نام ‘‘عالمِ ملکوت’’ ہے جس کو منفی عنصریت کا عالم کہہ سکتے ہیں۔ ہم پہلے نسمۂِ مُفرد اور نسمۂِ مرکّب کا تذکرہ کر چکے ہیں۔
زمانیت کی ترکیب نسمۂِ مُفرد سے ہوتی ہے اور مکانیت کی ترکیب نسمۂِ مرکّب سے۔ فرشتے، جنّات اور ان کے عالم وہ نقش و نگار ہیں جو زمانیت کی ترکیب پر مشتمل ہیں لیکن عالمِ مادّی اور اس کے مظاہر مکانیت کی ترکیب کا نتیجہ ہیں۔ خلا کی اکہری حرکت کا نام زمان یا نَسمہ مُفرد ہے اور فاصلہ کی دوہری حرکت کا نام ‘‘مکان’’ یا نسمۂِ مرکّب ہے۔ اوّل اوّل تو خلا میں جو لا محسوس حرکت واقع ہوتی ہے وہی ‘‘مَوالیدِ ثلاثہ’’ کی اصل ہے۔ اس حرکت میں جس قدر تیزئ رفتار پیدا ہوتی ہے اس ہی قدر نَسمہ کا ہُجوم بڑھ جاتا ہے ۔ یہ ہُجوم دو مراتب پر منقسم ہے۔ ایک مرتبہ ‘‘عَین’’ دوسرا ‘‘مکان’’۔ عین کی ماہیت اور مکان کو مظہر کہہ سکتے ہیں۔ عین گریز(منفی) ہے۔
مکان کشش مثبت ہے۔ جب دونوں کی اجتماعیت میں کشش کا غلبہ ہوتا ہے تو ‘‘عالمِ ناسُوت’’ (مادّی دنیا) کی شکلیں وقوع میں آتی ہیں۔ ان کو مادّی جسم کہا جاتا ہے۔ لیکن جب گریز کا غلبہ ہوتا ہے تو ملکوتی شکلیں وُجود میں آتی ہیں۔ ملکوتی مخلوق کے دو مراتب ہیں۔ ایک مرتبہ میں عین کی صفات کا ہُجوم امکان کی صفات کے ہُجوم پر غالب رہتا ہے۔ اس مرتبہ کی مخلوق کا نام ملائکہ ہے۔ دوسرے مرتبہ میں امکان کی صفات کا ہُجوم عین کی صفات کے ہُجوم پر غالب آ جاتا ہے۔ اس مرتبہ کی مخلوق کا نام جنّات ہے۔ نَسمہ جن دو رخوں پر مشتمل ہے، ان میں ایک رخ گریز ہے۔ گریز کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کی ذات جو روشنیوں کا مجموعہ ہے، اس کے اندر دو حرکات مسلسل واقع ہوتی رہتی ہیں۔ ایک حرکت ذات کے انوار کا خارج کی طرف متواتِر سفر کرتے رہنا۔ دوسری حرکت خارج سے نہروں کی روشنیاں برابر اپنے اندر جذب کرتے رہنا ہے۔ گویا نَسمہ کی دوصفات ہیں۔ ایک ملکوتی، دوسری بشری۔ ان دونوں صفات میں ہر صفَت ایک اُصول کی پابند ہے۔ کوئی فرد خارجی دنیا میں جتنا مُستَغرق ہوتا ہے اس کے نقطۂِ ذات کی روشنیاں اتنی ہی ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہ روشنیوں کے گریز کا پہلو ہے۔ یہ وہی روشنیاں ہیں جن کی صفَت ‘‘مَلَکیّت’’ ہے۔ ان روشنیوں کے ضائع ہونے سے مَلَکیّت کی صفَت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ نقطۂِ ذات میں روشنیوں کی ایک معیّن مقدار ہوتی ہے جو مَلَکیّت اور بشریت کا توازن قائم رکھتی ہے۔ اگر اس روشنی کی مقدار کم ہو جائے گی تو حیوانی اور مادّی تقاضے بڑھ جائیں گے۔ مَلَکیّت کی صفَت عالمِ امَر میں صَعود کرتی ہے، اس لئے کہ اس صفَت کا مرکز ‘‘عالمِ امَر’’ ہے۔ اس کے برعکس جب مَلَکیّت کی صفَت کم ہو جاتی ہے تو مادّی تقاضے فرد کو اسفل میں کھینچ لاتے ہیں۔ وہ جتنا اسفل کی طرف بڑھتا ہے اتنا ہی کثافتوں اور ثقل میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر اس کی توجہ ‘‘عالمِ امَر’’ سے ہٹ کر اَسفل میں مُقیّد ہو جاتی ہے۔

عالمِ امَر

حٰم (1) وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (2) إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ (3) فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (4) أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ (5) رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (6) رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ (7) (سورۂ دخان)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم ہو کر طے کیا جاتا ہے۔ (سورۂ دخان، رکوع پہلا) حکمت والے معاملے سے مراد نَوعِ انسانی کی فکری وسعتیں اور ان کا عمل ہے۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہر قسم کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ جو طرزیں عالمِ ظاہر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معیّن ہوتی ہیں وہ عالمِ امَر یا عالمِ مثال میں اصل نقش و نگار کی صورت رکھتی ہیں اور ایک ترتیب کے ساتھ عالمِ خلق یا عالمِ ظاہر میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اگرچہ عالمِ امَر عالمِ خلق کو محیط ہے مگر اس عالم کو خارج میں دیکھنے والی نگاہ نہیں دیکھ سکتی۔ البتہ نگاہ کے اس رخ سے دیکھا جا سکتا ہے جو داخل میں دیکھتا ہے۔
جب ہم کسی چیز کی طرف دیکھتے ہیں تو کوئی شئے ہمارے اور اس چیز کے درمیان مشترک ہوتی ہے۔ یہی مشترک شئے دیکھنے کا ذریعہ ہے اور کائنات کی دیگر اشیاء سے ہمارے اتصال کا باعث ہے۔ مثلاً سورج ہماری آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو ہمارے اور سورج کے درمیان سورج کے نقطۂِ ذات اور ہمارے نقطۂِ ذات کے علاوہ کوئی تیسری شئے موجود ہے۔ یہ شئے اتنی سریعُ السَّیر ہے کہ ہمارے نقطۂِ ذات اور سورج کے نقطۂِ ذات کے درمیانی فاصلے کو ہر آن ہم رشتہ رکھتی ہے۔ اس ہی کے ذریعہ ہماری ہستی سورج کی ہستی سے ابتدائے آفرینش سے متعارف ہے۔ ہزاروں سال پہلے کی دنیا بھی سورج سے اس ہی طرح متعارف تھی جس طرح آج کی دنیا متعارف ہے۔ تعارف کی طرز میں ردّ و بدل ہونا تعارف کے اصل نُقوش پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ اگر ان نُقوش کے ذریعہ تعارف کی تلاش کی جائے تو صفاتِ تعارف کا سمجھ لینا ممکن ہو سکتا ہے۔
تعارف کی ایک صفَت یہ ہے کہ اب سے ہزاروں سال پیش تر کا انسان سورج کو جس شکل میں دیکھتا تھا، موجودہ دور کا انسان بھی اس ہی شکل میں دیکھتا ہے۔ اس حقیقت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ تعارف کی روشنی ازل سے ایک ہی طرز پر قائم ہے۔ تمام افراد کا نقطۂِ ذات الگ الگ ہے اور ایک دوسرے سے رُوشناس ہے۔ یہ رُوشناسی اس روشنی کے ذریعہ قائم ہے جو نگاہ کی ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتی بلکہ داخلی رخ سے دیکھی جا سکتی ہے۔ اس روشنی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم نگاہ کے ظاہری رخ سے دیکھی جا سکتی ہے اور دوسری نگاہ کے داخلی رخ سے۔ جو قسم نگاہ کے داخلی رخ سے دیکھی جا سکتی ہے وہ ازل سے یکساں حالت پر قائم ہے۔ اس میں کوئی تغیّر واقع نہیں ہوتا اور اس غیر متغیّر روشنی میں کسی قسم کے نقش و نگار نہیں ہوتے۔ وہ کائنات کا ‘‘عَین’’ بن جاتے ہیں۔ یہی عین مظاہرے کے نقش و نگار کی اصل ہیں۔ اس ہی عین کی حرکت مراتب میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ ان دونوں مراتب کو گریز اور کشش کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔
روشنی کی ایک اصل جو غیر متغیّر ہے ‘‘صادِرُالعَین’’ کہلاتی ہے لیکن دوسری جو تغیّر پذیر ہے ‘‘عَین’’ کہلاتی ہے۔ یہ دونوں اصلیں عالمِ امَر میں ‘‘صادِرُالعَین’’ اور ‘‘عَین’’ کے بعد امکان کی حد میں شروع ہوتی ہیں۔ ان حدوں کا پہلا مرحلہ ‘‘مِثالیت’’ اور دوسرا مرحلہ‘‘عنصریت’’ ہے۔ مثالیت روشنی کا وہ ہیولیٰ ہے جس کو دوسرے الفاظ میں روشنی کا جسم کہتے ہیں۔ داخلی نگاہ اس کو دیکھ سکتی ہے اور اِدراک اس کو محسوس کر سکتا ہے۔ اس ہیولیٰ میں ’’إبعاد‘‘ پائے جاتے ہیں لیکن اس کا مرکز مادّی دنیا میں نہیں ہے۔ البتہ دوسرا مرحلہ عنصریت کا مرکز مادّی دنیا میں ہے۔
یہ دونوں عالمِ امکان کے مراتب ہیں۔ اس طرح کائنات میں چار بُعد پائے جاتے ہیں۔
بُعد نمبر۱۔ صادِرُالعَین (غیر متغیّر)
بُعد نمبر۲۔ عین (تغیّر پذیر)
بُعد نمبر۳۔ مثالیت
بُعد نمبر۴۔ عنصریت
ہم پہلے نہروں کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ ہر نہر اپنی حدود میں ’’بُعد‘‘ کہلاتی ہے۔ اور مخصوص صفات رکھتی ہے۔ حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اس کائنات سے پہلے کیا تھاتو آپﷺ نے فرمایا ‘‘امعاء’’ سوال کیا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ ارشاد ہوا، ‘‘ماء’’۔
‘‘امعاء’’ عربی اِصطلاح میں ایسی منفیت کو کہتے ہیں جو عقل انسانی میں نہ آ سکے اور ‘‘ماء’’ عربی میں ’’مثبیّت‘‘ کو کہتے ہیں جو کائنات کی بنیادیں ہیں۔ اس ہی مثبیّت کا نام عالمِ امَر ہے۔ امعاء جو اِصطلاح میں ماوراءُ الماوراء کہلاتی ہے۔ اس کا تعارف ‘‘عالم نور’’ سے کیا جاتا ہے۔ انسانی تفہیم و تعلیم کی معراج جہاں تک ہے اس حد کا اِصطلاحی نام ’’حجاب محمود‘‘ ہے۔ حجاب محمود وہ بلندیاں ہیں جس سے عرش ِعظیم کی انتہا مراد ہے۔ یہ انسانی نقطۂِ ذات کی معراج کا کمال ہے کہ وہ اپنے اِدراک کو حجاب محمود کی تفہیم کا خوگر بنا سکے اور ان صفاتِ الٰہیہ کو سمجھ سکے جو ان بلندیوں میں کار فرما ہے۔ یہ عالم اللہ کے مقرب فرشتوں کی پرواز سے ماوراء ہے۔ مقرب فرشتوں کی پرواز جہاں تک ہے اس حد کا نام ’’سدرۃُ المنتہیٰ‘‘ ہے۔ ملائکۂِ مقربین سدرۃُ المنتہیٰ سے آگے نہیں جا سکتے۔ سدرۃُ المنتہیٰ سے نیچے ایک اور بلندی ہے۔ اس بلندی کی وسعتوں کو بیتُ المعمور کہتے ہیں۔
سدرۃُ المنتہیٰ اور بیتُ المعمور کی حد میں رہنے والے اور پرواز کرنے والے فرشتے تین گروہوں پر مشتمل ہیں۔ ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے سامنے رہ کر تسبیح میں مشغول ہے، دوسرا گروہ اللہ تعالیٰ کے اَحکام عالم تک پہنچاتا ہے اور تیسرا گروہ ان فرشتوں کا ہے جو عالمِ امَر کے لئے اللہ تعالیٰ کے اَحکامات کو اپنے حافظہ میں رکھتے ہیں۔ یہ تمام فرشتے لوحِ محفوظ سے تعلّق رکھتے ہیں۔ ‘‘عالمِ نور’’ سے فَروتَر ملائکۂِ مقربین یا ملاءِ اعلی کی حدود ہیں۔ ان میں ملاءِ اعلیٰ چھ بازو والے فرشتے ہیں۔ ان کو عالمِ نور کے سمجھانے کی فراست حاصل ہے اور یہ عالمِ نور کے پیغامات کا تحمّل رکھتے ہیں۔ عالم نور کے اَحکامات وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ عرشِ اعظم سے نافذ فرماتے ہیں۔ اس طبقہ سے فَروتَر ملائکۂِ روحانی کا طبقہ ہے۔ ان کو ملاءِ اعلیٰ کے پیغامات سمجھنے کی فراست حاصل ہے۔ اور اس طبقہ سے فروتر ملائکۂِ سماوی کا طبقہ ہے۔ یہ روحانی ملائکہ کے پیغامات سمجھنے کی فراست رکھتے ہیں۔ چوتھے درجہ میں ادنیٰ فرشتے ہیں۔ یہ ان اَحکامات کو تعمیل کرانے کی فراست رکھتے ہیں جو ان تک پہنچتے ہیں۔ یہ ملائکہ طبقاتِ ارضی پر ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ چھ بازو والے فرشتے چھ فراستوں کے اہل ہیں۔ ان میں سے ہر فراست ایک نور ہے۔
نمبر۱۔ انہیں کچھ نہ کچھ ذات کا عرفان حاصل ہے۔
نمبر۲۔ وہ صفات کی معرفت رکھتے ہیں۔
نمبر۳۔ ‘‘عالمِ امَر’’ کے صادِرُالعَین کی فہم رکھتے ہیں۔
نمبر۴۔ ‘‘عَین’’ کی ترتیب اور تخلیق سے واقف ہیں۔
نمبر۵۔ عالمِ امکان یا عالمِ خلق کی مثالیت کے علوم پر انہیں پورا عبور حاصل ہے۔
نمبر۶۔ عالمِ خلق یا عالمِ امکان کے اَجزاء پر عبور رکھتے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں ملاءِ اعلیٰ مذکورہ بالا چھ علوم کی روشنیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ علم کوئی ایسی چیز ہے جو روشنی کے وُجود سے الگ ہے۔ دراصل روشنی ہی کا نام علم ہے۔ اگر ہمارے سامنے علم (یہاں علم سے مراد علمِ حُضوری یا علم الحقیقت ہے) کی شکل وصورت آئے گی تو وہ ایک طرح کی روشنی ہو گی جو اس علم کی مخصوص صفات کے رنگوں کا مظاہرہ کرتی ہے۔
اس طرح روحانی ملائکہ تین، چار، پانچ، چھ روشنیوں کا مجموعہ ہیں۔ ان کو عالمِ امَر اور عالمِ خلق کی معرفت حاصل ہے۔ ان کے چار بازوؤں سے یہ روشنیاں مراد ہیں۔ سماوی ملائکہ عالمِ امَر کی معرفت رکھتے ہیں۔ ان کے اندرصادِرُالعَین اور عین کی روشنیاں مُجتمع ہیں۔ ادنیٰ ملائکہ عالمِ خلق کے اَجزاء کی تفہیم پر عبور رکھتے ہیں۔ یہ مثالیت اور عنصریت کی روشنیوں کا مجموعہ ہیں۔

نسبت یادداشت

اللہ تعالیٰ نے انسان کے نقطۂِ ذات میں چاروں عالموں کو یکجا کر دیا ہے۔
نمبر۱۔ عالمِ نور
نمبر۲۔ عالمِ تَحت الشّعور یا عالمِ ملائکۂِ مقربین
نمبر۳۔ عالمِ امَر
نمبر۴۔ عالمِ خلق
عالمِ امَر کی وضاحت اس طرح ہو سکتی ہے۔ ہماری کائنات اجرام سماوی، مَوالیدِ ثلاثہ وغیرہ کتنی ہی مخلوقات اور مَوجودات کا مجموعہ ہے۔ کائنات کے تمام اَجزاء اور افراد میں ایک ربط موجود ہے۔ مادّی آنکھیں اس ربط کو دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں اس کے وُجود کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
جب ہم کسی چیز کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو اسے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک عام بات ہے۔ ذہنِ انسانی کبھی اس طرف متوجّہ نہیں ہوتا۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ روحانیات میں اور تصوّف میں کسی چیز کی وجہ تلاش کرنا ضروری ہے خواہ وہ کتنی ہی ادنیٰ درجہ کی چیز ہو۔ ہم جب کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ ہم اس کی صفات ٹھیک طرح سمجھ لیتے ہیں۔ سمجھنے کی نسبت ذہن کے استعمال کی گہرائی سے تعلّق رکھتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کو زیادہ واضح طریقہ پر ہم اس طرح کہیں گے۔ شاہد جس وقت کسی چیز کو دیکھتا ہے تو اس کی صلاحیّتِ معرفتِ شئے نگاہ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ گویا دیکھنے والا خود دیکھی ہوئی چیز بن کر اس کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ یہ عالمِ امَر کا قانون ہے۔

مثال:

ہم نے گلاب کے پھول کو دیکھا۔ دیکھتے وقت ہمیں خود کو گلاب کے پھول کی صفات میں منتقل کرنا پڑا، پھر ہم گلاب کے پھول کو سمجھ سکے۔ اس طرح گلاب کے پھول کی معرفت ہمیں حاصل ہو گئی۔
عالمِ خلق کا ہر فرد اپنے نقطۂِ ذات کو دوسری شئے کے نقطۂِ ذات میں تبدیل کرنے کی ازلی صلاحیّت رکھتا ہے اور جتنی مرتبہ اور جس طرح چاہے وہ کسی چیز کو اپنی معرفت میں مُقیّد کر سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت ہر انسان کا نقطۂِ ذات پوری کائنات کی صفات کا اجتماع ہے۔
عالمِ امَر کی ایک شان اور بھی ہے۔ جب آپ کسی شئے کا نام سنتے ہیں مثلاً آپ نے محمود کا نام سنا تو آپ کے ذہن میں لفظ محمود یا محمود کے ہجّے نہیں آئیں گے بلکہ محمود کی ذات اور شخصیت آئے گی۔ وہ شخصیت جو کتنی ہی صفات کا مجموعہ ہے۔ جن صفات سے آپ واقف ہیں ان صفات میں محمود کی صورت اور سیرت دونوں موجود ہوں گی۔ یہ عالمِ امَر کی تفہیم کا دوسرا قانون ہے۔ اس قانون کے دو اَجزاء ہیں۔ ایک جز کی تفہیم شعور کے ذمّہ ہے لیکن محمود کے بارے میں محمود کی تمام شخصیت جو ازل سے ابد تک واقع ہوئی ہے اور جس کو شعور اپنی فہم میں نہیں لا سکا ہے وہ تمام کی تمام یعنی ازل سے ابد تک پورا محمود لاشعور کی فہم میں رہتا ہے۔ اس باقی محمود کی تفہیم لاشعور کے ذمّہ ہے۔ اگر کوئی عارف محمود کی ازل سے ابد تک پوری شخصیت کا کشف چاہتا ہے تو وہ اپنے شعور کو لاشعور کے اندر مرکوز کر دیتا ہے۔ پھر تمام لاشعور شعور کے اندر منتقل ہوتا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب انسان کو اپنی انا کی معرفت حاصل ہو کیونکہ انسانی انا کی حرکت ہی لاشعور میں مرکوز ہو کر لاشعوری روئداد کو تصوّر میں منتقل کر دیتی ہے۔ ایسی کیفیت کو خواجہ بہاء الدین نقشبندؒ نے ‘‘یادداشت’’ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔
عالمِ امَر کی تفصیل میں مذاہبِ عالم کی چند باتوں کا تذکرہ کر دینا ضروری ہے۔ ایسے لوگوں نے جو کسی زمانے میں غیبی طاقتوں سے متعارف ہوئے ہیں۔ چند عقائد کو ملحوظ رکھ کر روحانی نظام تعلیم ترتیب دیا ہے۔ اس قسم کے نظام تعلیم متعدد بن چکے ہیں۔ ابتدائی دور میں جب دنیا کی آبادیاں اور ضرورتیں بہت کم تھیں۔ یہ روحانی تعلیمات بہت وسیع اور ہمہ گیر صورت اِختیار نہیں کر سکی تھیں۔ بالکل ابتدائی دور میں نَوعِ انسانی میں کتنے ہی افراد غیبی چیزوں کا مشاہدہ کرتے تھے اور مشاہدات کا تعلّق ‘‘عالمِ امَر’’ سے ہوتا تھا۔ یہ لوگ ان مشاہدات کو اپنے قبیلے اور طرز زندگی کے محدود معانی میں سمجھتے تھے۔ ان کے سامنے وسیع تر دنیا اور نَوعِ انسانی کے بہت سے طبقے کی زندگی نہیں ہوتی تھی اس لئے ان پر عالمِ امَر کے جو حقائق مُنکشِف ہوتے تھے ان کی تعبیریں حسّیات بشری کے چند اَجزاء پر مشتمل ہوتی تھیں۔ چنانچہ ان روحانی بزرگوں کے بعد ان کے مقلّدین اوہامِ باطلہ اور تصوّرات خام میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ تمام بت پرست اور مظاہر پرست مذہبوں کی ترتیب اس ہی طرح ہوئی ہے۔ یہ مقلّدین جنہوں نے اس دور میں مذہب کے خدّوخال تیار کئے خود ‘‘عالمِ امَر’’ کے حقائق سے ناواقف ہوتے تھے اور یہ لوگ جو کچھ اپنے رہنماؤں سے سیکھتے تھے اس کو دوسروں تک پہنچانے میں غلط عقائد، جادو اور رہبانیت کی بنیادیں قائم کر دیتے تھے۔ وہ مظاہر کو اصل روشنیوں کا سرچشمہ قرار دینے میں تأمّل نہیں کرتے تھے۔ اس قسم کے مذاہب کی مثالیں بابل میں پیدا شدہ مذاہب، جین مت اور آریائی مذہبوں میں ہندو ویدانیت کے زیر اثر بہت سے مذاہب ہیں۔ بودھ مت بھی مہاتما بودھ کے مقلدین کی ایسی ہی روش سے دوچار ہو کر رہبانیت سے رُوشناس ہوا ہے۔ منگول مذاہب میں توحید کے خدّوخال نہ ملنے کی یہی وجہ ہے۔ کچھ ایسے ہی حالات سے متاثر ہو کر ’’ٹاؤمت‘‘ کو بھی بہت سے اَوہام اور جادوگری کا اِسیر ہونا پڑا۔ منگولی مذاہب میں آفتاب پرست اور مادہ پرست اور زرتشیت عقائد رکھنے والوں نے یا تو ‘‘عالمِ امَر’’ کو شیطانی اور رحمانی کے دو اُصولوں پر محمول کیا ہے یا خودمظاہر کو ‘‘عالمِ امَر’’ کی مرکزیّت قرار دیا ہے۔ ان رویّوں سے آہستہ آہستہ بت پرستی اور مظاہر پرستی کے عقائد مستحکم ہوتے گئے اور انسانی طبیعت مادّی زندگی سے گریزاں رہنے لگی۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مادّی زندگی کُل زندگی کا نصف ہے۔ اگر اس نصف کا کسی مسلک میں کوئی مقام نہیں ہے تو معاشی زندگی کی تمام تعمیریں مسمار ہو جائیں گی۔ اگر اس قسم کی وجوہات پیش آ جائیں تو مذہب کو خیال کی حدود میں مُقیّد تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور جب عملی زندگی کا ڈھانچہ مذہب کی گرفت سے آزاد ہو جائے تو عقائد میں بے راہ روی پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس طرح کتنے ہی مذہب اعتدال کی راہوں سے ہٹ کر ‘‘عالمِ امَر’’ اور ’’عالمِ خلق‘‘ کے حقائق سے نامانوس ہو گئے۔ بالآخر ‘‘عالمِ خلق’’ کی زندگی کے تقاضوں نے نَوعِ انسانی کو ردِّ عمل میں مبتلا کر دیا اور گزشتہ پانچ ہزار سال میں ایسے مذاہب کی بنیادیں پڑنے لگیں جن کا مقصد صرف حکومت اور ریاست اور مادّی زندگی قرار پایا۔ ان مذاہب میں کنفیوشی، شنٹو اور یونانی فلسفہ کے نظام ہائے حکمت جس میں افلاطون، اس کے معاصرین کی تعلیمات اور موجودہ دور کے کمیونسٹ ملک قابل ذکر ہیں۔ ان سب کی بنیادیں صرف اس وجہ سے پڑیں کہ رائج الوقت مذاہب میں ‘‘عالمِ خلق’’ کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ چنانچہ یہی ردِّ عمل لادینی کا سبب ہوا۔ قرآنِ پاک میں جگہ جگہ ان بے اعتدالیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
مذہب نام ہے ان عقائد کے مجموعوں کا جو انسانی اعمال اور مُحرِّکات کو وُجود میں لاتا ہے۔ کتنے ہی مذاہب ایسے ہیں جن میں خدا کا تصوّر نہیں پایا جاتا مثلاً جین مت اور کمیونسٹ مذاہب جو ہزاروں سال پہلے سے اب تک وُجود میں آتے رہے ہیں۔
انسانی عقل کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ خارج کے بارے میں سوچتا ہے، دوسرا رخ ‘‘نفس’’ کے بارے میں۔ پہلا رخ مظاہر کو دیکھ کر جو کچھ خارج میں ہے اس کے بارے میں تجربات اور محسوسات کی حدیں قائم کرتا ہے۔ دوسرا رخ ‘‘نفس’’ کے متعلّق فکر کرتا ہے اور مظاہر کی گہرائی میں جو امور مُنکشِف ہوتے ہیں ان کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ پہلے رخ کا استعمال عام ہے۔ اس کی تمام طرزیں اور فکریں وحی اور الہام سے الگ ہیں۔ البتہ دوسرا رخ وحی اور الہام سے وابستہ ہے جو پہلے رخ پر محیط ہے۔چنانچہ پہلا رخ یعنی ‘‘عالمِ امَر’’ دوسرے رخ یعنی ’’عالمِ خلق‘‘ کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ پہلا رخ علمِ نبوت کی راہوں پر چل کر حقائق کا انکشاف کرتا ہے۔ دوسرا رخ اشیاء میں تلاش کے ذریعے مادّیت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تمام مذاہب جو دوسرے رخ کی بنیادوں پر مرتّب کئے گئے ہیں زیادہ تر لادینی، بت پرستی، مظاہر پرستی، مادّیت پرستی اور فلسفیانہ قدروں پر مشتمل ہیں۔ یہ سب کے سب مادّی علم یا علمِ حُصولی کی راہوں پر چل کر اپنی منزلیں متعیّن کرتے ہیں۔ زیادہ تر ان کا رواج مشرق وسطیٰ کو چھوڑ کر دنیا کے دوسرے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ان مذاہب میں ہزاروں فنا ہو چکے ہیں اور کتنے ہی باقی ہیں۔ یہ سب کے سب‘‘عالمِ امَر’’ یعنی نفس کی اس زندگی کے لئے جو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے کوئی آسانی فراہم نہیں کرتے بلکہ اس قسم کی تجرباتی اور محسوساتی الجھنیں پیدا کرتے ہیں جو ابدالآباد کی تکالیف میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ جہاں قدیم سے سامی اقوام آباد ہیں ایسے مذاہب کا مرکز رہا ہے جو وحی کے زیر اثر جاری ہوئے اور ‘‘علمُ النفس’’ یعنی عالمِ امَر کی صراحتوں کے قانون پر چلے۔ ان میں رائج اور وسیع مذاہب تین ہیں۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام۔ یہ تینوں سامی اقوام میں نافذ ہوئے۔ ان میں اسلام آخری مذہب ہے کیونکہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔

* نوٹ: میں یہ کتاب پیغمبر اسلام حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ مجھے یہ حکم حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام کی ذات سے بطریق اُویسیہ ملا ہے۔ اس ہی حکم کا ایک حصّہ یہ بھی ہے کہ میں اس کتاب میں کسی مذہب پر تبصرہ نہ کروں۔ اس لئے میں سامی اور غیر سامی مذہب کا مزید تذکرہ نہیں کر سکتا۔

علمُ النفس میں عالمِ امَر کی نوعیت ایسے گلاب کی ہے جس کو ہماری آنکھوں نے کبھی دیکھا ہے۔ ہمارا ذہن اس کا ایک تصوّر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیتا ہے چنانچہ اس گلاب کو ہم جس وقت چاہیں عالمِ امَر سے عالمِ خلق کی دنیا میں لا سکتے ہیں یعنی اس کا تصوّر ہمارے ذہن میں واپس آ جاتا ہے اور ہم اس کو گلاب کی نَوع کا ایک فرد شمار کرتے ہیں۔ اس میں خدّوخال ہوتے ہیں اور رنگ ہوتے ہیں۔ خدّوخال کا تعلّق عالمِ امَر سے ہے، رنگوں کا تعلّق عالمِ خلق سے ہے۔ دراصل اس کی نَوع کے جو خدّوخال ہیں وہ نفسُ الامر ہیں۔ ان کا وُجود عالمِ امَر میں بالکلیہ اور مستقل رہتا ہے۔ عالمِ امَر میں اس کے خدّوخال کا وُجود زمانیت کے اَجزاء کا مرکّب ہے۔ یہ ہمارے نفس کی صلاحیّتِ تخلیق پر منحصر ہے کہ ہم جب چاہیں اس کے خدّوخال میں رنگ پیدا کر دیں۔ عالمِ امَر میں ہم اور گلاب ایک نفس ہیں۔ ایک نفس کی صلاحیّتیں جو ہم میں اور گلاب میں مشترک ہیں ارادہ کے تحت گلاب میں رنگ پیدا کر کے گلاب کو ہمارے تصوّر کی حدود میں داخل کر دیتی ہیں۔
عالمِ امَر کی یہ نفسی صلاحیّتیں ہر عامی کو حاصل ہیں۔ اگر ان نفسی صلاحیّتوں کو غیر معمولی بنانے کی کوشش کی جائے تو یہی ‘‘نفس الامری ارادہ’’ گلاب کو آفاقی حدود میں داخل کر دیتا ہے۔ پھر وہ گلاب مکانی حقیقت بن کر ٹھوس طریقے پر آفاقی دنیا میں رُونما ہو جاتا ہے۔ ہم اس قانون کا تجزیہ اس طرح کریں گے۔ حقیقت، ماوراحقیقت، ماوراءُ الماوراء حقیقت۔
ماوراءُ الماوراء حقیقت ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ ماوراء حقیقت تجلّیاتِ باری تعالیٰ ہیں۔ حقیقت صفات باری تعالیٰ ہیں۔ ماوراء حقیقت کو واجبُ الوجود بھی کہتے ہیں۔ یہ تجلّیاتِ الٰہی کا عالم ہے۔ اس کے بعد خود حقیقت کا عالم ہے جس کو ’’عالم نور‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس ہی عالمِ نور کا تذکرہ قرآنِ پاک میں کیا گیا ہے اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ واجبُ الوجود ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ ہم واجبُ الوجود کو صرف تجلّی کا نام دے سکتے ہیں۔ یہ تجلّی اصلِ صفات ہے اور ذات سے وابستہ ہے۔ واجبُ الوجود کے بعد صفات ہیں جن کو ہم نے حقیقت کہا ہے۔ ان صفات کا رشتہ تجلّیاتِ ذات سے ہے۔ قرآنِ پاک کے اندر معرفتِ الٰہیہ کو تین مراتب میں بیان کیا گیا ہے۔
نمبر۱۔ ذاتِ باری تعالیٰ۔
نمبر۲۔ عالمِ امَر جو ’’کُن’’ کہنے سے ظُہور میں آیا۔ اِنَّمَا اَمْرُہٗ اِذَآ اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (قرآنِ پاک) جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا معمول یہ ہے کہ اس چیز کو کہتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔
نمبر۳۔ عالمِ امرِ خاص۔ یہ وہ عالم ہے جس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے میں نے آدم کے پتلے میں اپنی روح پھونکی۔

تصویر / نقشہ

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 144 تا 161

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)