اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12990

مدینہ آنے کے بعد چند ماہ مسلمان مہاجرین کے لئے بڑے صبر آزما تھے۔ مہاجرین اپنا سارا اثاثہ اور بیوی بچے چھوڑ کر مدینہ آئے تھے۔ انہیں مالی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ گھر گرہستی کی دشواریوں کا بھی سامنا تھا۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے مدینہ کے مسلمانوں اور مکے سے آئے ہوئے مسلمانوں کے مابین رشتۂ اخوت قائم کردیا اور مدینہ کے انصار نے ایثار و خلوص کی اعلی مثال قائم کی۔ ہر انصاری مسلمان نے اپنے مال و اسباب میں سے نصف اپنے مہاجر بھائی کو دیا۔

کچھ عرصہ کے بعد مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان خلیج پیدا ہوئی تو قریش نے اس سے فائدہ اٹھایا اور یہودیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ مدینہ کے یہودی اس پر آمادہ ہوگئے کہ وقت پڑنے پر وہ قریش کا ساتھ دیں گے۔ یہودیوں کی اقتصادی اور معاشی حیثیت مضبوط تھی۔ بازار اور منڈیاں ان کے ھاتھ میں تھیں۔ قریش نے مسلمانوں کو معاشی طورپر جکڑنے کا پروگرام بنایا اور مدینہ کی اقتصادی ناکہ بندی کردی۔ اشیائے خورد و نوش اور دیگر سامان مدینہ میں پہنچنا بند ہوگیا۔ مدینہ کے باشندے فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے۔

مکہ والوں کی دشمنی اور شر انگیزی سے تنگ آکر مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی مکہ کے تجارتی قافلوں کو مدینہ کے قرب و جوار سے نہیں گزرنے دیں گے۔ تجارتی قافلوں کی گزرگاہوں پر آباد قبائل سے معاہدہ کرکے انہیں اپنا حلیف بنالیا اور آنے اور جانے والے قافلوں کا راستہ بند کردیا۔ چند تجارتی قافلے جب اس صورتحال سے دوچار ہوئے تو قریش کو تشویش ہوئی۔ سالانہ تجارتی قافلہ جب ابوسفیان کی قیادت میں دو ہزار اونٹوں پر سامانِ تجارت لے کر جارہا تھا تو مکہ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ مسلمان قافلہ لوٹنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس افواہ سے لوگوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔

بے شمار اونٹوں اور تیز رفتار گھوڑوں پر مسلح فوج مکہ سے روانہ ہوئی۔ اس لشکر میں مکہ کے بڑے بڑے سردار شامل تھے۔ لشکر کی تیاری اور مسلمانوں کے خلاف جذبات ابھارنے میں ابو جہل پیش پیش تھا۔ ابو سفیان تجارت کا سامان لے کر بحفاظت مکہ پہنچ گیا۔ لشکر کو اطلاع ملی تو انہوں نے اپنے سپہ سالار سے واپس چلنے کو کہا۔ لیکن ابو جہل نے کہا ’’ہم اس خوشی میں جشن منائیں گے اور جشن مدینہ کے قرب و جوار میں پُر فضا مقام پر ہوگا تاکہ مدینہ والے ہماری طاقت سے مرعوب ہوجائیں اور وہ قبائل جو مسلمانوں کے حلیف بن گئے ہیں معاہدہ توڑ دیں اس طرح سارے عرب میں ہماری قوت کی دھاک بیٹھ جائے گی۔‘‘

سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ابوجہل کی سازش اور قریشِ مکہ کے ارادوں کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کیا اور ابوجہل کی سازش کو ناکام کردینے کا اعلان کردیا۔ مہاجرین کی نمائندگی کرتے ہوئے حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کی۔ مدینہ کے انصار کی طرف سے مقداد بن عمروؓ نے کہا، ’’جو حکم اللہ کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اس کی تعمیل میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔ ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں کریں گے، کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا تھا کہ تو اور تیرا خدا جا کردشمنوں سے لڑائی کرے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہم جاں نثاری کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے۔‘‘

سن ۲ ہجری ماہ رمضان میں ۳۱۳رضاکار جن کے پاس ستّر اونٹ اور دو گھوڑے تھے، مدینہ سے بدر کی طرف روانہ ہوئے۔ لشکر کے افراد باری باری سواری کے جانور استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور مدینہ سے اسّی میل کے فاصلہ پر بدر کے چشموں کے قریب پڑاؤ ڈال دیا۔ بھرپور جنگی سازوسامان کے ساتھ قریش کی فوج نے وادی کے دوسرے سرے پر پڑاؤ ڈالا تھا۔

اسلامی انٹیلی جنس نے مکی لشکر کے دو افراد کو گرفتار کرلیا۔ ان سے اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ حضرت حباب بن مندزؓ کے مشورے سے سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کے قیام کی جگہ تبدیل کردی اور آگے بڑھ کر چشموں کے پانی پر قبضہ کرلیا۔

سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ کی معیت میں میدانِ جنگ کا جائزہ لیا۔ ایک مقام پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل اس جگہ ابوجہل مارا جائے گا ۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد دوبارہ ارشاد فرمایا، اس جگہ عتبہ کا لاشہ گرے گا۔ اس طرح چیدہ چیدہ تمام سردارانِ قریش کے واصلِ جہنم ہونے کے مقامات سے اپنے رفقاء کو آگاہ کیا۔

اسی رات بارش برسی اور جس جگہ مسلمان لشکر کا پڑاؤ تھا وہاں کی ریت دب گئی جبکہ قریشِ مکہ کا لشکر جس جگہ اترا تھا وہ زمین کیچڑ میں تبدیل ہوگئی۔

ترجمہ :

’’جس وقت ڈال دی تم پر اونگھ، اپنی طرف سے تسکین کو، اور اتارا تم پر آسمان سے پانی کہ اس سے تم کو پاک کرے اور دور کرے تم سے شیطان کی نجاست، اور تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور ثابت کرے تمہارے قدم‘‘۔ (الا نفال ۔۱۱)

سعد بن معاذؓ کی تجویز پر لشکر سے پیچھے ایک بلند ٹیلے پر سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے چھپر ڈال کر مرکزِ قیادت بنادیا گیا جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں لشکروں کا بآسانی جائزہ لے سکتے تھے۔

دوسری صبح قریش کا لشکر نخوت و کبر کی تصویر بن کر متکبرانہ طمطراق سے وادی بدر میں اترا۔ قریش کے سردار عتبہ بن ربیعہ پر صورت حال واضح ہوئی کہ ابوجہل اور چند دیگر سرداروں کی ہٹ دھرمی خون خرابے اور اپنے مسلم رشتہ داروں کو قتل و غارت کرنے کا باعث بن رہی ہے تو اس نے قریش کو مخاطب کرکے کہا۔ تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے لڑکر کوئی کارنامہ انجام نہیں دوگے۔ اگر تم نے انہیں شکست دے کر قتل کردیا تو تمہیں ایسے چہرے نظر آئیں گے جن کو دیکھ کر تمہیں خوشی نہیں ہو گی۔ کیونکہ ہر آدمی اپنے قبیلہ کے کسی فرد یا قریبی رشتہ دار کو قتل کرے گا۔ جنگ کے ارادے سے باز رہو اور واپس چلو۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں سے کنارہ کش ہوجاؤ، عرب والے خود ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نبٹ لیں گے۔ عتبہ سرخ اونٹ پر سوار تھا۔ اس کو دیکھ کر سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ قوم میں سے کسی شخص کے پاس خیر ہے تو سرخ اونٹ والے کے پاس ہے اگر لوگوں نے اس کی بات مان لی تو صحیح راہ پائیں گے۔

عتبہ کی تقریر کا اثر ختم کرنے کے لئے ابوجہل نے دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے اور کہا ’’اے اللہ! ہم میں سے جو فریق قرابت کو زیادہ کاٹنے والااور غلط حرکتیں زیادہ کرنے والا ہے اسے تو آج توڑ دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جو فریق تیرے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ پسندیدہ ہے آج اس کی مدد فرما۔‘‘

قرآن حکیم نے اس کا جواب سورۃ انفال آیت نمبر ۱۹ میں دیا ہے۔

ترجمہ:

’’اگر تم چاہو فیصلہ، سوپہنچ چکا تم کو فیصلہ اور اگر باز آؤ تو تمہارا بھلا ہے اور اگر پھیر کروگے تو ہم بھی پھیر کرینگے اور کام نہ آوے گا تم کو تمہارا جتھا اگرچہ بہت ہوں اور جانو کہ اللہ ساتھ ہے ایمان والوں کے۔‘‘

۱۷ رمضان المبارک سن ۲ہجری کی صبح صف بندی ہوئی۔ جنگ شروع ہونے سے قبل سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سجدہ ریز ہوکر ربّ العزت کے حضور التجا کی:

’’الہی یہ قریش ہیں۔ کبر و نخوت سے جن کی گردنیں اکڑی ہوئی ہیں۔ تیرے نافرمان ہیں اور تیرے رسول سے آمادۂ جنگ ہیں۔ الہی ہمیں نصرت اورمدد کی ضرورت ہے۔ جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے۔ اے اللہ! تجھ پر ایمان لانے والے قلیل ہیں۔ آج تو نے انہیں ہلاک کردیا تو روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔‘‘

سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کی چادر کندھوں سے ڈھلک گئی اور سجدہ طویل ہوگیا۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام اور سارے اسلامی لشکر پر چند لمحوں کے لئے اونگھ طاری ہوگئی ۔ اسلامی لشکر نے جب آنکھیں کھول کر دشمن فوج کی طرف دیکھا تو ان کی تعداد کم تھی۔

ترجمہ :

’’بے شک تمہارے لئے ان دو گروہوں میں باہم مقابل ہوئے قدرت کی بڑی دلیل ہے، ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔ جو مسلمانوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے سے دوگنا دیکھ رہا تھا اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مدد سے قوت دیتا ہے۔ بے شک اس میں نصیحت ہے آنکھوں والوں کے لئے۔‘‘ ( آل عمران ۔ ۱۳)

لڑائی شروع ہونے سے پہلے دونوں لشکر ایک دوسرے کو اصل تعداد سے کم تعداد میں دیکھ رہے تھے۔ لیکن جب لڑائی شروع ہوئی تو مسلمانون کی تعداد کفار کو زیادہ نظر آنے لگی اور ان کے دلوں میں ہیبت بیٹھ گئی۔ جنگ کا آغاز ہوا تو عرب کے دستور کے مطابق قریش کے لشکر میں سے تین افراد میدان میں آئے اور دعوتِ مبارزت دی۔ عتبہ اگرچہ جنگ کے حق میں نہ تھا لیکن مبارزت کے لئے اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولید کے ساتھ میدان میں آیا اور للکارا کہ ہے کوئی ہمارا مقابلہ کرنے والا۔ لشکر اسلام میں سے تین انصاری جوان مقابلے کے لئے نکلے۔ کبرو نخوت کے پیکر قریشی سرداروں نے ان سے لڑنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہمارا تعلق مکہ کے اشراف سے ہے لہذا ہمارا مقابلہ وہ کرے جو مکہ کا رہنے والا ہو اور ہم اس کو جانتے ہوں۔

حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہؓ میدان میں آئے اور تینوں مشرکوں کو جہنم واصل کردیا ۔ حضرت عبیدہؓ شیبہ کے وار سے زخمی ہوگئے تھے جنہیں حضرت علیؓ اٹھا کر میدان سے باہر لائے۔ مشرکین کے تین نامور سرداروں کے لاشے خاک و خون میں لت پت تھے۔ کفار اپنے معبودوں کو پکارتے ہوئے تلواریں لہرا کر میدان میں کود پڑے اور دو بدو لڑائی شروع ہوگئی۔

لڑائی میں قریش کو ہزیمت ہوئی۔ کافروں کو مسلمانوں تک پہنچنے کے لئے ریتیلی ناہموار زمین میں سے گزرنا پڑتا تھا۔ مسلمانوں کی صف بندی نسبتاً ہموار اور سخت زمین پر کی گئی تھی۔ کافر اپنی صفوں کو جس وقت ترتیب دے رہے تھے، سیدنا حضور الصلوۃ والسلام نے چند کنکریان مٹھی میں لے کر کافروں کی طرف پھینکیں اور فرمایا، ’’پست و رسوا ہوئے کفار کے چہرے‘‘۔ مٹھی بھر کنکریاں فضا میں اڑتی ہوئی دشمن فوج تک پہنچیں تو ہوا کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ دشمن کی آنکھیں اور نتھنے ریت اور مٹھی سے بھرگئے۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عمل کو اللہ نے اپنا عمل قرار دیا۔

ترجمہ :

’’ سو تم نے ان کو نہیں مارا لیکن اللہ نے مارا، اور تو نے نہیں پھینکی مٹھی خاک جس وقت پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی اور کرنا چاہتا تھا ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان، تحقیق اللہ ہے سنتا جانتا‘‘۔ ( الا نفال ۔ ۱۷)

غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کے دستے آسمان سے اترے۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کی فتح و کامرانی کے لئے خدائے بزرگ و برتر کے حضور سجدہ ریز ہوکر دعا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیقؓ سے فرمایا: ’’ابو بکر! خوش ہوجاؤ تمہارے پاس اللہ کی مدد آ گئی ہے۔‘‘

ترجمہ :

’’جب تم نے اپنے رب سے فریاد کی تو اس نے تمہاری پکار سنی اور تمہاری مدد کےلئے ہزار جنگی فرشتے آگے پیچھے صف بستہ بھیج دیئے‘‘۔ ( الا نفال ۔۹)

بدر میں زور کا رن پڑا۔ کچھ وقت کے لئے یہ کہنا مشکل تھا کہ ہارنے اور جیتنے والاکون ہے۔ کس کی فتح ہوگی؟ یکایک جنگ کا نقشہ مسلمانوں کے حق میں بدل گیا۔ کفار کے قابل سپوت اور نمایاں چہرے خون آلودہ ہوگئے۔ کافر لشکر کا سپہ سالار ابوجہل بھی جہنم رسید ہوا۔ دشمن کی صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ فوج کے حوصلے پست ہوگئے اور ان میں مزید لڑنے اور مزاحمت کی طاقت نہیں رہی۔ میدانِ جنگ چھوڑ کر کفار فرار ہوگئے۔ اشراف قریش جنگی قیدی بنا لئے گئے۔ قریش کے ستّر اسّی افراد مارے گئے۔ کافی تعداد میں قید ہوئے۔ چودہ مسلمان شہید ہو ئے اور اللہ کی مدد و نصرت سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں تک پہنچ گئی۔

**********************

مخلوقات میں تبادلۂ خیالات ہوتا رہتا ہے کائنات تبادلۂ خیال کا ایک خاندان ہے۔ مخلوق میں فرشتے اور جنات ہم سے زیادہ مانوس ہیں۔ پے در پے جو خیال ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں وصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعہ ہم تک پہنچتے ہیں۔

کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ مخلوق کی سوچنے کی طرزیں ایک نقطۂ مشترک رکھتی ہیں۔ تین نوع کے طرزِعمل میں زیادہ اشتراک ہے۔ انہی کا تذکرہ قرآن پاک میں انسان، فرشتہ اور جنات کے نام سے لیا گیا ہے۔ انسان ، فرشتہ اور جنات کائنات کے اندر سارے کہکشانی نطاموں میں موجود ہیں۔

انسان لاشمار سیاّروں میں آباد ہیں اور ان کی قسمیں کتنی ہیں؟ اس کا اندازہ قیاس سے باہر ہے۔ یہی بات فرشتوں اور جنات کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اس کائنات سے پہلے کیا تھا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ امعاء‘‘

سوال کیا گیا، اس کے بعد کیا ہوا؟

ارشاد کیا : ’’ماء‘‘

’’ امعاء‘‘ عربی اصطلاع میں ایسی منفیت کو کہتے ہیں جو عقل انسانی میں نہ آسکے اور ’’ماء‘‘ عربی میں ’’مثبیت‘‘ کوکہتے ہیں جو کائنات کی بنیادیں ہیں۔ اس ہی مثبیت کا نام عالمِ امر ہے۔ امعاء جو اصطلاح میں ماوراء الماوراء کہلاتی ہے اس کا تعارف عالمِ نور سے کیا جاتا ہے۔ انسانی تفہیم و تعلیم کی معراج جہاں تک ہے اس حد کا اصطلاحی نام ’’حجاب محمود‘‘ ہے۔ حجاب محمود وہ بلندیاں ہیں جس سے عرش اعظم کی انتہا مراد ہے۔ یہ انسانی نقطۂ ذات کی معراج کا کمال ہے کہ وہ اپنے ادراک کو حجابِ محمود کی تفہیم کا خوگر بناسکے اور ان صفاتِ الہٰیہ کو سمجھ سکے جو ان بلندیوں میں کارفرما ہے۔ یہ عالم اللہ کے مقرب فرشتوں کی پرواز سے ماوراء ہے۔ مقرب فرشتوں کی پرواز جہاں تک ہے۔ اس حد کا نام ’’سدرۃ المنتہٰی‘‘ ہے۔ ملائکہ مقربین سدرۃ المنتہٰی سے آگے نہیں جاسکتے۔ سدرۃ المنتہٰی سے نیچے ایک اور بلندی ہے۔ اس بلندی کی وسعتون کو ’’بیت المعمور‘‘ کہتے ہیں۔

سدرۃ المنتہٰی اور بیت المعمور کی حد میں رہنے والے اور پرواز کرنے والے فرشتے تین گروہوں پر مشتمل ہیں۔ ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے سامنے رہ کر تسبیح میں مشغول ہے، دوسرا گروہ اللہ کے احکام عالم تک پہنچاتا ہے اور تیسرا گروہ ان فرشتوں کا ہے جو عالمِ امر کے لئے اللہ کے احکامات کو اپنے حافظہ میں رکھتے ہیں۔ یہ تمام فرشتے لوح محفوظ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’’عالم نور‘‘ سے فروتر ملائکہ مقربین یا ملاء اعلٰی کی حدود ہیں۔ ان میں ملا اعلٰی چھ بازوؤں والے فرشتے ہیں۔ ان کو عالم نور کے سمجھانے کی فراست حاصل ہے اور یہ عالم نور کے پیغامات کا تحمل رکھتے ہیں۔ عالم نور کے پیغامات وہی ہیں جو اللہ عرش اعظم سے نافذ فرماتے ہیں۔ اس طبقہ سے فروتر ملائکہ روحانی کا طبقہ ہے۔ ان کو ملاء اعلٰی کے پیغامات سمجھنے کی فراست حاصل ہے۔ اور اس طبقہ سے فروتر ملائکہ سماوی کا طبقہ ہے۔ یہ روحانی ملائکہ کے پیغامات سمجھنے کی فراست رکھتے ہیں۔ چوتھے درجے میں ادنٰی فرشتے ہیں یہ ان احکامات کی تعمیل کرانے کی فراست رکھتے ہیں جو ان تک پہنچتے ہیں۔ یہ ملائکہ طبقاتِ ارضی پر ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔

چھ بازو والے فرشتے ( ملاءاعلٰی) چھ فراستوں کے اہل ہیں۔ ان میں سے ہر فراست ایک نور ہے۔

  1. انہیں کچھ نہ کچھ ذات کا عرفان حاصل ہے۔
  2. وہ صفات کی معرفت رکھتے ہیں۔
  3. عالم امر کے صادر العین کی فہم رکھتے ہیں۔
  4. عین کی ترتیب اور تخلیق سے واقف ہیں۔
  5. عالم امکان یا عالم خلق کی مثالیت کے علوم پر انہیں پورا عبور حاصل ہے۔
  6. عالمِ خلق یا عالمِ امکان کےاجزاء پر عبور رکھتے ہیں۔

روحانی ملائکہ تین، چار، پانچ، چھ روشنیوں کا مجموعہ ہیں۔ ان کو عالمِ امر اور عالمِ خلق کی معرفت حاصل ہے۔ ان کے چار بازوؤں سے یہ روشنیاں مراد ہیں۔

سماوی ملائکہ عالمِ امر کی معرفت رکھتے ہیں۔ ان کے اندر صادر العین اور عین کی روشنیاں مجتمع ہیں۔ سماوی ملائکہ تین اور چار روشنیوں کا مجموعہ ہے۔

ادنٰی ملائکہ عالمِ خلق کے اجزاء کی تفہیم پر عبور رکھتے ہیں۔ ہر مثالیت اور عنصریت کی یعنی پانچ اور چھ روشنیون کا مجموعہ ہیں۔۔۔۔۔۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جنگ بدر میں مسلمانوں کے لئے دعا فرمائی تو اللہ نے اس دعا کو قبول کیا اور نظام تکوین کے تحت ملاء اعلیٰ نے دعا کی قولیت کو ملائکہ روحانی تک پہنچایا۔ ملائکہ روحانی نے ملائکہ سماوی تک دعا کی قبولیت کا اعلان کیا اور چوتھے درجے کے فرشتے جن کو ملائکہ عنصری بھی کہا جاتا ہے یہ پیغامات قبول کرکے کفر کے مقابل آگئے اور اس طرح اللہ نے نصرت اور فتح عطا فرمادی ۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 116 تا 129

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)