یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

انسان کا شعوری تجربہ

کتاب : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=5291

اولیائے کرام ؒ اور عارف باللہ کشف اور الہام سے وابستہ ہوتے ہیں۔ مراقبے کے ذریعے کشف اور الہام کی طرزیں ان کے ذہنوں میں اتنی مستحکم ہوجاتی ہیں کہ وہ مظاہر کے پس پردہ کام کرنے والے حقائق سمجھنے لگتے ہیں اور ان کا ذہن مشیت الہیٰہ کے اسرار و رموز کو براہ راست دیکھتا اور سمجھتا ہے اور پھر وہ قدرت کے راز دار بن جاتے ہیں۔ ان روحانی مدارج کے دوران ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ ان حضرات کا ذہن ، ان کی زندگی اور زندگی کا ایک ایک عمل مشیت اور رضائے الہٰیہ کے تابع ہوجاتا ہے۔
ایسے بزرگوں کی گفتگو اسرار و رموز اور علم و عرفان سے پُر ہوتی ہے اور ان کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ معرفت و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ان کے ملفوظات اور واردات روحانیت کے راستے پر چلنے والے سالکین کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو اور ان کے الفاظ پر ذہنی مرکزیت کے ساتھ تفکر کیا جائے تو کائنات کی ایسی مخفی حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں جن کا انکشاف اور مشاہدہ انسان کو اس امانت سے روشناس کردیتا ہے جس کو سماوات ، ارض ، جبال نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیا کہ ہم اس امانت کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لئے کہ اس کے بار سے ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔
مرشد مکرّم ، منبع رُشد وہدایت، شیخ طریقت، عالم علم لُدنّی، ابدال حق حسن اخریٰ سیّد محمد عظیم برخیاؔ المعروف حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ کی ذات گرامی علم و عرفان کا ایسا سمندر ہے جس کے کنارے نور نبوت سے جا ملتے ہیں۔آپ کی ہستی ایک ایسا ہیرا ہے جس کی تراش و خراش خاتم النبین حضور علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کے فیض و کرم سے عمل میں آئی ہے۔ آپ کی شخصیت ایک ایسا آفتاب ہے جس کی ضیا پاشی نور الٰہی اور نور نبوت کے فیضان سے قائم و دائم ہے۔
جن لوگوں نے حضور بابا صاحبؒ کو دیکھا ہے اور رموز و حکمت سے لبریز ان کے اشادات سنے ہیں ، ان پر یہ حقیقت روشن ہے کہ حضور باباصاحبؒ قدرت کے معاملے میں کتنا دخل رکھتے تھے۔ اکثر اوقات گفتگو کے دوران وہ ایسے بنیادی نکات بیان کرجاتے تھے جو براہ راست قوانین قدرت کی گہرائیوں سے متعلق ہیں اور جنہیں سن کر سننے والے کے ذہن میں کائنات میں جاری و ساری اصول و قوانین کا نقشہ آجاتا تھا۔ حضور قلندر بابا اولیاءؒ جب کسی موضوع پر تبصرہ فرمایا کرتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے ان کا ذہن ایک دریائے ناپیدا کنار اور ذخیرۂ انوار ہے اور یہ انوار الفاظ کے سانچے میں ڈھل کر حضور بابا صاحب ؒ کی زبان سے ادا ہورہے ہیں ۔ حاضرین مجلس اکثر ان کی گفتگو سے مبہوت ہوجاتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ نظام کائنات سے متعلق قدرت کے قواعد و ضوابط اور ان پر عمل درآمد کے قانون کو عام فہم زبان میں اس طرح بیان کرنا حضور بابا صاحبؒ جیسے عالم لدنّی ہی کا وصف ہوسکتا ہے۔
حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات اور ملفوظات پیش کرنے کا مقصد اور منشاء یہ ہے کہ حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے ذہن ، ان کی طرز فکر اور ان کی تعلیمات سے عوام متعارف ہوجائیں اور ان کے سامنے یہ بات آجائے کہ اولیاء اللہ کی طرزفکر کیا ہوتی ہے ، وہ کس طرح سوچتے ہیں اور ان کے روزو شب کس طرح گزرتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 79 تا 81

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - پیش لفظ  ِ 2 - حالات زندگی  ِ 3 - قلندر  ِ 4 - قلندری سلسلہ  ِ 5 - تعارف  ِ 6 - جائے پیدائش  ِ 7 - تعلیم و تربیت  ِ 8 - روحانی تربیت  ِ 9 - درونِ خانہ  ِ 10 - روزگار  ِ 11 - بیعت  ِ 12 - مقام ولایت  ِ 13 - اخلاق حسنہ  ِ 14 - بچپن اور شباب  ِ 15 - اوصاف حمیدہ  ِ 16 - عظمت  ِ 17 - صلبی اولاد  ِ 18 - تصنیفات  ِ 19 - کشف وکرامات  ِ 20 - کبوتر زندہ ہوگیا  ِ 21 - گونگی بہری لڑکی  ِ 22 - موسلادھار بارش  ِ 23 - میں نے ٹوکری اٹھائی  ِ 24 - مہر کی رقم  ِ 25 - فرشتے  ِ 26 - مشک کی خوشبو  ِ 27 - ایثار و محبت  ِ 28 - چولستان کا جنگل  ِ 29 - ہر شئے میں اللہ نظر آتا ہے  ِ 30 - زمین پر بٹھادو  ِ 31 - جِن مرد اور جِن عورتیں  ِ 32 - پیش گوئی  ِ 33 - درخت بھی باتیں کرتے ہیں  ِ 34 - لعل شہباز قلندر ؒ  ِ 35 - صاحب خدمت بزرگ  ِ 36 - فرشتے حفاظت کرتے ہیں  ِ 37 - سٹّہ کا نمبر  ِ 38 - بیوی بچوں کی نگہداشت  ِ 39 - نیلم کی انگوٹھی  ِ 40 - قلندر کی نماز  ِ 41 - وراثتِ علم لدنّی  ِ 42 - مستقبل کا انکشاف  ِ 43 - اولیاء اللہ کے پچیس جسم ہوتے ہیں  ِ 44 - فرائڈ اور لی بی ڈو  ِ 45 - جسم مثالی یا AURA  ِ 46 - آپریشن سے نجات  ِ 47 - کراچی سے تھائی لینڈ میں علاج  ِ 48 - ایک لاکھ روپے خرچ ہوگئے  ِ 49 - پولیو کا علاج  ِ 50 - ٹوپی غائب اور جنات حاضر  ِ 51 - زخم کا نشان  ِ 52 - بارش کا قطرہ موتی بن گیا  ِ 53 - جاپان کی سند  ِ 54 - اٹھارہ سال کے بعد  ِ 55 - خون ہی خون  ِ 56 - خواجہ غریب نواز ؒ اور حضرت بوعلی شاہ قلندر ؒ  ِ 57 - شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ  ِ 58 - میٹھا پانی کڑوا ہوگیا  ِ 59 - پیٹ میں رسولی کا روحانی علاج  ِ 60 - خرقِ عادت یا کرامت  ِ 61 - ارشادات  ِ 62 - انسان کا شعوری تجربہ  ِ 63 - زمان ماضی ہے  ِ 64 - ماضی اور مستقبل  ِ 65 - حواس کیا ہیں ؟  ِ 66 - اپنا عرفان  ِ 67 - اسرارِ الٰہی کا بحر ذخّار  ِ 68 - دربار رسالت ؐ میں حاضری  ِ 67 - کُن فیَکون  ِ 68 - مکتوبِ گرامی  ِ 69 - ہزاروں سال پہلے کا دور  ِ 70 - سورج مرکز ہے، زمین مرکز نہیں  ِ 71 - فرائڈ کا نظریہ  ِ 72 - علم مابعد النفسیات  ِ 73 - مابعد النفسیات اور نفسیات  ِ 74 - تصنیفات  ِ 75 - رباعیات  ِ 75.1 - محرم نہیں راز کاوگر نہ کہتا  ِ 75.2 - اک لفظ تھا ، اک لفظ سے افسانہ ہوا  ِ 75.3 - معلوم نہیں کہاں سے آنا ہے مرا  ِ 75.4 - مٹی میں ہے دفن آدمی مٹی کا  ِ 75.5 - نہروں کو مئے ناب کی ویراں چھوڑا  ِ 75.6 - اک جُرعہ مئے ناب ہے ہر دم میرا  ِ 75.7 - جس وقت کہ تن جاں سے جدا ٹھیر یگا  ِ 75.8 - اک آن کی دنیا ہے فریبی دنیا  ِ 75.9 - دنیائے طلسمات ہے ساری دنیا  ِ 75.10 - اک جُرعہ مئے ناب ہے کیا پائے گا  ِ 75.11 - تاچند کلیساو کنشت و محراب  ِ 75.12 - ماتھے پہ عیاں تھی روشنی کی محراب  ِ 75.13 - جو شاہ کئی ملک سے لیتے تھے خراج  ِ 75.14 - کل عمر گزر گئی زمیں پر ناشاد  ِ 75.15 - ہرذرّہ ہے ایک خاص نمو کا پابند  ِ 75.16 - آدم کو بنایا ہے لکیروں میں بند  ِ 75.17 - ساقی ترے میکدے میں اتنی بیداد  ِ 75.18 - اس بات پر سب غور کریں گے شاید  ِ 75.19 - یہ بات مگر بھول گیا ہے ساغر  ِ 75.20 - اچھی ہے بری ہے دہر فریاد نہ کر  ِ 75.21 - ساقی ! ترا مخمور پئے گا سوبار  ِ 75.22 - کل روز ازل یہی تھی میری تقدیر  ِ 75.23 - ساقی ترے قدموں میں گزرنی ہے عمر  ِ 75.24 - آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بے کار  ِ 75.25 - حق یہ ہے کہ بیخودی خودی سے بہتر  ِ 75.26 - جبتک کہ ہے چاندنی میں ٹھنڈک کی لکیر  ِ 75.27 - پتھر کا زمانہ بھی ہے پتھر میں اسیر  ِ 75.28 - مٹی سے نکلتے ہیں پرندے اڑ کر  ِ 75.29 - معلوم ہے تجھ کو زند گانی کا راز ؟  ِ 75.30 - مٹی کی لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس  ِ 75.31 - ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش  ِ 75.32 - ساقی کا کرم ہے میں کہاں کامئے نوش  ِ 76 - وصال  ِ 77 - خانقاہ عظیمیہ  ِ 78 - عرس مبارک  ِ 79 - سلسلۂ عظیمیہ کاتعارف اوراعزاض و مقاصد  ِ 80 - رنگ  ِ 81 - سنگ بنیاد  ِ 82 - خانواَدۂ سلاسل  ِ 83 - رنگ  ِ 84 - اغراض و مقاصد  ِ 85 - قواعد و ضوابط
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message