اللہ کیا چاہتا ہے؟

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7901

اللہ کریم نے کائنات کو اس لئے تخلیق کیا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ کائنات میں بااختیار اور مکلّف مخلوق اپنا ارادہ اور اختیار استعمال کر کے اس راستے پر قدم بڑھائے جو راستہ قدم بقدم چلا کر اللہ تک لے جاتا ہے خالق اپنی مخلوق سے یہ چاہتا ہے کہ مخلوق خالق کو پہچان کر، دیکھ کر، سمجھ کر اس کی ربوبیت کا اقرار کرے اور اس سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرے۔ مخلوق کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ ہمارا پیدا کرنے والا ہی ہماری حفاظت کرتا ہے، ہمارا نگہبان ہے اور ہمیں زندہ رکھنے کے لئے وہ تمام وسائل فراہم کرتا ہے جن وسائل کے اوپر زندگی کا دارومدار ہے۔ اتنے بڑے مربوط اور منظم انتظام کے ساتھ نگہداشت اور نگہبانی کا منشاء صرف یہ ہے کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ بندے کے ذہن پر یہ بات منکشف ہو جائے کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو محبت کے ساتھ پیدا کیا۔ جس طرح اللہ نے محبت کے ساتھ مخلوق کو تخلیق کیا اسی طرح مخلوق بھی محبت کے ساتھ اللہ کی قربت حاصل کرے۔
اللہ کی محبت کا مظاہرہ ہمیں ماں کی محبت میں ملتا ہے۔ ماں تخلیق کا ایک ذریعہ ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی رہتی ہے۔ اس نشوونما میں براہِ راست ماں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا لیکن ماں چونکہ تخلیق کا ذریعہ بنتی ہے اس لئے ماں کے اندر اولاد کی جو محبت ہوتی ہے وہ کسی دوسری ہستی میں نہیں ہوتی۔ کوئی باشعور بچہ اگر ماں کے ہونے سے انکار کر دے تو ماں کے اوپر جو گزرے گی اس کا اندازہ ایک ماں ہی کر سکتی ہے۔ تخلیق اور محبت کا دوسرا پرتَو باپ ہے۔ باپ اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت کرتا ہے۔ اولاد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے اور معاشرے میں اس کو مقام حاصل ہو جائے۔ یہ سب کچھ ہونے کے بعد اولاد اگر باپ سے منحرف ہو جائے، باپ کو پہچاننے سے انکار کر دے، باپ کی قربت کو اپنے لئے ایک غیر ضروری بات سمجھے، باپ کے اوپر جو کچھ گزرے گی اس کا تصوّر صرف وہ بندہ کر سکتا ہے جس کے اندر باپ کی شفقت کے جذبات بیدار ہوں۔
اصل خالق اللہ ہے۔ ماں باپ اللہ کی تخلیق کو منظر عام پر لانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ ماں باپ یہ بات بھی جانتے ہیں کہ اولاد کا ہونا نہ ہونا، اولاد کا زندہ رہنا، اولاد کا ذی شعور ہونا، اولاد کا کُند ذہن ہونا یا دانشور ہونا سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو لوگ اللہ کے اوپر یقین نہیں رکھتے اور اللہ کی ہستی کا انکار کرتے ہیں بہرکیف انہیں بھی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ سنبھالنے والی کوئی ہستی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض نے اللہ کی بجائے اس ہستی کا نام نیچر رکھ لیا ہے۔
ماں باپ اس بات سے باخبر ہیں کہ اولاد کی پیدائش کے لئے وہ ایک ذریعہ ہیں۔ قدرت اگر چاہے تو وہ ذریعہ بن سکتے ہیں اور قدرت اگر نہ چاہے تو وہ اولاد کی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے باوجود اولاد سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ اولاد ماں باپ کو پہچانے، اولاد ان کے مرتّبے اور ان کے درجے کے مطابق ان کا احترام کرے۔
دراصل یہ وصف وہ وصف ہے جو خالق کا ذاتی وصف ہے یعنی اللہ یہ چاہتا ہے کہ جس محبت، تعلق خاطر اور پیار کے ساتھ اللہ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے یہ کائنات بھی اسی پیار اور محبت کے ساتھ اللہ کو پہچانے۔ جس طرح ایک بچہ ماں باپ کے حکم کی خلاف ورزی کر کے اور ان اقدار کو پامال کر کے جو معاشرے میں قائم ہیں، ناخلف اور ناسعادت ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے سے انکار کر دے تو وہ بھی ناخلف، باغی اور ظالم ہے اور جب کوئی بندہ خود اپنے لئے بدبختی کو قبول کر لیتا ہے اور اپنے اوپر جہالت اور ظلم کو مسلط کر لیتا ہے تو ‘‘بدبختی’’ اس کی زندگی بن جاتی ہے۔ زندگی میں سے سکون ختم ہو جاتا ہے اور اطمینان قلب سے محروم ہو جاتا ہے۔ خوف اس کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے اور جب کوئی بندہ اس درد ناک عذاب اور مصیبت کو اپنے گلے لگا لیتا ہے تو اللہ کا قانون اس کو اتنی پروٹیکشن تو دیتا ہے کہ وہ زندہ رہے، کھاتا پیتا رہے لیکن سکون آشنا زندگی اس سے دُور ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ اللہ سے دُوری کی بنا پر اللہ کی خصوصی محبت اور دوستی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اللہ کی خصوصی محبت اور اس محبت کے رستے پر چل کر اللہ کا دوست بننے کے لئے جو طریقے، قاعدے اور ضابطے بنائے گئے ہیں ان کا انکشاف روحانی علوم کرتے ہیں۔
روحانی علوم کا منشاء یہ ہے کہ آدمی ان ضابطوں اور قاعدوں سے واقف ہو جائے جن ضابطوں اور قاعدوں کے تحت ازل میں مخلوق نے اللہ کی آواز سن کر اس بات کا اقرار کیا تھا۔ ‘‘جی ہاں’’ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں۔
یہ سارا کھیل جو ہمارے سامنے ہو رہا ہے، کہیں آدمی پیدا ہو رہا ہے، کہیں آدمی بچپن کے دور سے گزر رہا ہے، کہیں آدمی جوان ہو رہا ہے، کہیں آدمی جوانی کے دور کو ختم کر کے بڑھاپے میں داخل ہو رہا ہے اور بڑھاپے کے بعد کسی دوسرے عالَم میں چلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اتنا مسلسل اور متواتر ہے کہ اس کو کہیں ٹھہراؤ نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک چین گھوم رہی ہے اور اس چین کی کڑیاں کبھی بچپن کا روپ دھار لیتی ہیں، کبھی جوانی کے خدوخال اختیار کر لیتی ہیں، کبھی بڑھاپے میں منتقل ہو جاتی ہیں اور کبھی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ چین ایک ہے کڑیاں بھی ایک ہیں لیکن ہرآن ہر لمحہ ہر کڑی ایک نئے رنگ اور روپ میں جلوہ گر ہو رہی ہیں۔
حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے کتاب لوح و قلم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ہر لمحہ اور ہر آن ازل ہے۔ یعنی اللہ نے جس طرح ‘‘کُن’’ فرمایا تھا وہ کُن ٹیپ ہو گیا ہے اور ٹیپ مسلسل چل رہا ہے۔ یہ ٹیپ شدہ آواز کائنات میں مسلسل گونج رہی ہے۔ انسان جب اس زمین پر وارِد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بچہ اس زمین پر پیدا ہوا، یہ اللہ کے اس عمل کا مظاہرہ ہے جس عمل کے نتیجے میں آدم کو جنّت سے نکالا گیا تھا۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ آدم ہے جب تک اس بچے نے جنّت میں اللہ کی نافرمانی نہیں کی یہ بچہ زمین پر پیدا نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
‘‘وہ ذات جس نے تمہیں تخلیق کیا ایک نفس سے۔’’
(القرآن)
ہمارے دانشور ایک نفس سے مراد آدم لیتے ہیں یعنی آدم، آدم سے پیدا ہوا اور آدم کی نسل بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے، سوال یہ ہے کہ آدم نے جنّت میں اللہ کی نافرمانی کی۔ اس نافرمانی کی بنا پر آدم کو جنّت سے نکالا گیا۔ جنّت کی فضا جنّت کے ماحول اور جنّت نے آدم کو رد کر دیا اس لئے کہ جنّت ایک ایسا ماحول ہے جس میں صرف وہ لوگ رہ سکتے ہیں جو نافرمان نہیں ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ اب سے کروڑوں سال پہلے آدم نے جنّت میں نافرمانی کی اور آدم کو جنّت سے نکال دیا گیا تو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کروڑوں سال پہلے آدم کی غلطی کا خمیازہ کروڑوں سال بعد پیدا ہونے والی آدم کی اولاد بھگت رہی ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات انصاف کے خلاف ہے۔ پریشان کُن بات ہے کہ ایک کروڑ سال پہلے ہمارے آباؤ اجداد کے دادا پر دادا اور ان کے دادا نے غلطی کی اور سزا آج پیدا ہونے والے بچے کو مل رہی ہے یعنی ایک راستہ چلتے آدمی نے کسی آدمی کو پتھر مارا اور اس کا سر کھل گیا۔ اس کے ساتھ چلنے والا آدمی جس کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کو پکڑا اورسزا دے دی گئی۔
آدم زاد نسل اس لئے پریشان ہے کہ اس نے حقائق سے دانستہ طور پر چشم پوشی کر لی ہے جو حقائق اسے نافرمانی سے پہلے آدم کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں۔ کائناتی تخلیقی عمل مسلسل جاری و ساری ہے۔ جس طرح ہمارا باپ آدم جنّت میں فرمانبردار بندے کی حیثیت سے رہتا تھا اور نافرمانی کا ارتکاب کر کے جنّت کو چھوڑ آیا۔ اسی طرح آدم کا ہر بیٹا اور حوّا کی ہر بیٹی، زمین پر آنے سے پہلے جنّت میں موجو دہے۔ وہاں اپنے باپ آدم کی نافرمانی کا مظاہرہ کرتا ہے اور نتیجہ میں جنّت اسے ردّ کر رہی ہے اور وہ زمین پر پیدا ہو رہا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 85 تا 90

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)