الف۔ کمپیوٹر

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7877

کسی علم کو سیکھنے کے لئے اس کی الف ب پ سے واقفیت ہونا ضروری ہے۔ کوئی آدمی جب تک الف ب پ کا قاعدہ نہیں پڑھ لیتا اردو زبان پڑھنا لکھنا نہیں سیکھ سکتا۔ جب کہ اس کی مادری زبان بھی اردو ہے۔ مادری زبان کے علاوہ دوسری زبان بھی اس وقت سیکھنا ممکن ہے جب کوئی ابتدائی قاعدے سے واقف ہو مثلاً انگریزی پڑھنے لکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ‘‘اے بی سی ڈی‘‘ پڑھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی آدمی ابتدائی حروف جو آپس میں مل کر لفظ بنتے ہیں سے واقف نہ ہو اسے پڑھا لکھا آدمی نہیں کہا جا سکتا۔ چاہے وہ ذہنی طور پر کتنا ہی ذہین ہو جس طرح ظاہری علوم سیکھنے کے لئے قاعدہ پڑھنا اور لکھنا ضروری ہے اور جس طرح قاعدے سے واقفیت ضروری ہے۔ روحانی علوم سیکھنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور پیغمبروں کے شاگردوں کا بنایا ہوا قاعدہ پڑھنا ضروری ہے۔ ظاہری علوم سیکھنے کے لئے الف ب پ پڑھنا ضروری ہے اور باطنی علوم سیکھنے کے لئے طرزِ فکر تبدیل کرنا ضروری ہے۔
روحانیت سیکھنے کے لئے بغدادی قاعدہ یا گرائمر کی کوئی کتاب انسانی تاریخ میں اب تک نہیں چھپی۔ روحانی علم منتقل ہوتا ہے اس کی آسان مثال بچے کے اندر ماں کی زبان کا منتقل ہونا ہے۔ کوئی ماں مادری زبان سکھانے کے لئے بچہ کو الف ب پ نہیں پڑھاتی۔
بچہ کے اندر طرزِ فکر وہی ہوتی ہے جو ماں باپ کی ہوتی ہے۔ بکری کا بچہ گھاس کھاتا ہے گوشت نہیں کھاتا۔ شیر کا بچہ گوشت کھاتا ہے گھاس نہیں کھاتا اور کبوتر کا بچہ نہ گھاس کھاتا ہے اور نہ گوشت کھاتا ہے، دانہ چگتا ہے۔ آدمی کا بچہ گوشت بھی کھاتا ہے، سبزی بھی کھاتا ہے، مٹی بھی کھاتا ہے، پتھر بھی کھاتا ہے، جڑیں بھی کھاتا ہے، لکڑی بھی کھاتا ہے۔ پتھر سے مراد نمک ہے، لکڑی سے مراد وہ جڑیں ہیں جو لکڑی کی طرح ہوتی ہیں مثلاً ہلدی، دار چینی وغیرہ۔ آدمی کا بچہ یہ اس لئے کھاتا ہے کہ اس کے ماں باپ یہ سب چیزیں کھاتے ہیں۔
آدمی کی طرح اگر شیر کی بھی یہی غذا ہوتی تو اس کے بچوں کی بھی یہی خوراک ہوتی۔ کھانا پینا شکار کرنا اور زندگی کے دوسرے عوامل شیر کے بچوں کو بغیر سیکھے ہوئے منتقل ہوتے ہیں یعنی ان سب چیزوں کو سیکھنے کے لئے قاعدہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ کوئی بھی مخلوق جو اس دنیا میں موجود ہے اپنی مادری زبان جانتی ہے اور ایک دوسرے کو مادری زبان میں اپنی کیفیات سے مطلع کرتی ہے۔ مرغی کو جب یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ اس کے بچوں کو چیل اٹھا کر لے جائے گی تو وہ ایک مخصوص آواز نکالتی ہے اور سارے بچے اس کے پروں میں سمٹ جاتے ہیں۔
علیٰ ہذا القیاس ہر نوع اپنی اپنی زبان جانتی ہے اور یہ زبان اس کی نسل میں بولی اور سمجھی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ گفتگو کا ایک اور طریقہ بھی ہے جس سے ہر شخص کسی نہ کسی وقت دوچار ہوتا ہے اور ہر شخص اس طریقے سے واقف ہے۔ یہ طریقہ اشاروں کی زبان ہے۔
آدمی کے اندر کوئی ایسا کمپیوٹر نصب ہے جو اس کی زندگی کے مختلف مراحل میں ہدایت دے رہا ہے۔ کبھی وہ ایسی ہدایت دیتا ہے جس سے آدمی غم زدہ ہو جاتا ہے۔ کبھی ایسی ہدایات ملتی ہیں کہ وہ بغیر کسی سبب کے خوش ہو جاتا ہے۔ کبھی اسے پانی پینے کی اطلاع دی جاتی ہے، کبھی وہ کمپیوٹر اسے یہ اطلاع فراہم کرتا ہے کہ اعصاب میں حرکت کرنے کی صلاحیت نہیں رہی لہٰذا سو جاؤ۔ سوتے آدمی کو یہ اطلاع ملتی ہے کہ اب اگر مزید چارپائی پر لیٹے رہے اور شعوری حواس میں داخل نہیں ہوئے تو اعصاب منجمد ہو جائیں گے۔ لہٰذا فوراً اٹھ جاؤ اور حرکت شروع کر دو۔ جب تک کمپیوٹر کوئی اطلاع نہیں دیتا آدمی یا کوئی بھی ذی روح کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اس میں انسان، بھیڑ، بکری اور کسی جانور کی یا نباتات و جمادات کی کوئی قید نہیں ہے۔ سب کے اندر یہ اطلاع دینے والی مشین نصب ہے۔ اس مشین کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ وہی اطلاع فراہم کرتی ہے جو حالات اور وقت کے مطابق ہو۔
یہ کمپیوٹر آدمی کے اندر اس کی روح ہے۔ موجودات میں جتنی ذی روح یا غیر ذی روح سمجھی جانے والی مخلوقات ہیں سب میں ایک ہی طرح کا کمپیوٹر نصب ہے۔ انسان اور دوسری مخلوق میں اگر فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ انسان کے علاوہ دوسری کوئی مخلوق اس کمپیوٹر کے علم سے ناواقف ہے۔ صرف انسان کو اللہ کریم نے کمپیوٹر کا پورا علم سکھایا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 55 تا 58

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)