روحانی تفسیر

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12810

سوال: قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تخلیق کے بعد اس سے مخاطب ہو کر فرمایا۔’’کیا نہیں ہوں میں ربّ تمہارا؟‘‘ مخلوق نے اقرار کیا کہ ’’بے شک آپ ہمارے ربّ ہیں‘‘۔ اس آیت کی روحانی تفسیر کیا ہے؟

جواب: جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میری عظمت، ربوبیت اور میری خالقیت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ میری عظمت کا اظہار ہو تو یہ بات خود بخود سامنے آ جاتی ہے کہ عظمت کو پہچاننے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کو جاننے کے لئے اللہ تعالیٰ کے علاوہ بھی ایسا ذہن ہو جو اللہ تعالیٰ کی صناعی کو سمجھ اور دیکھ سکے۔
اب یہ بات اس طرح سمجھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں پہچانا جاؤں۔ جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ میں پہچانا جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں جو کچھ تھا یا ہے اس کی تخلیق عمل میں آ گئی۔ تخلیق کے لئے ضروری تھا کہ کوئی ضابطہ و قاعدہ موجود ہو۔ اور ہر تخلیق کے جداگانہ فارمولے مرتّب کئے جائیں۔ یہ ضابطے قاعدے اور فارمولے بھی اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں جو پروگرام تھا اس کو کُن کہہ کر ظاہر فرما دیا۔
جس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’کُن‘۔۔۔۔۔۔تو جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں تھا وہ قاعدوں، ضابطوں، فارمولوں اور شکل و صورت کے ساتھ عالَمِ وُجود میں آ گیا۔ جو کچھ عالَمِ وُجود میں آ گیا اس کا نام کائنات ہے۔ کائنات ایک ایسے خاندان کا نام ہے جس میں بے شمار نَوعیں ایک کنبے کی حیثیت رکھتی ہیں جیسے ہی کُن فیکون بنا تمام نَوعیں وجود میں آ گئیں۔
ان نَوعوں میں جنّات، فرشتے، انسان، جمادات و نباتات، حیوانات، زمینیں، سماوات اور بے شمار کہکشانی نظام ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ساری نَوعیں ایک کنبے کی حیثیت سے قیام پذیر ہیں۔ کوئی نَوع یہ نہیں جانتی کہ میں کیا ہوں؟کون ہوں؟ میری تخلیق کا منشاء کیا ہے؟
تخلیق کے پہلے مرحلے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جب ان تمام نَوعوں کو شعور بخشا تو نظر وجود میں آ گئی۔ جب اللہ نے کہا ’’میں ہوں تمہارا رب۔‘‘ تو کائنات میں موجود تمام نَوعیں اس آواز کی طرف متوجّہ ہو گئیں اور نَوعوں نے دیکھا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے۔ قانون یہ ہے کہ شعور اس وقت متحرّک ہوتا ہے جب صاحب شعور یہ جانتا ہے کہ میری اپنی ایک ہستی ہے اور میرے علاوہ دوسری ہستی بھی ہے۔
تخلیق کا دوسرا مرحلہ یہ بنا کہ کائنات نے جیسے ہی اللہ تعالیٰ کی آواز سنی اس کے اندر شعور کی دو صلاحیتیں پیدا ہو گئیں۔ ایک سننے کی صلاحیت دوسری دیکھنے کی صلاحیت، مخلوق نے سننے اور دیکھنے کی صلاحیت کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھا تو شعور کے اندر تیسری سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی۔
سننے، سیکھنے اور سمجھنے کے بعد چوتھی صلاحیت اپنے علاوہ دوسرے کو پہچاننے کی پیدا ہو گئی۔ پہچاننے کی صلاحیت کے بعد پانچویں صلاحیت پیدا ہوئی کہ نَوعوں نے خود کو پہچان لیا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ کسی عظیم اور بابرکت ہستی نے مجھے پیدا کیا ہے اور یہ ہستی اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے۔
کائنات نے اس بات کا اقرار کیا کہ ’’جی ہاں! ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ربّ ہیں آپ نے ہمیں پیدا کیا ہے۔‘‘ اس عالَم میں کائنات (انسان) نے اللہ کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 196 تا 198

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message