اعتکافِ رمضان

کتاب : توجیہات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3106

سوال: ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں اعتکاف کی کیا اہمیت ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب: ہمارے دین کے جتنے بھی ارکان ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو ارکان اسلام کی ایک حیثیت انفرادی ہے اور ساتھ ساتھ اس رکن کی حیثیت اجتماعی ہے اگر تفکر کیا جائے تو اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اجتماعی حیثیت کو قائم کرو انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی سوچ کو اختیار کرو اس لئے پانچ وقت مسجدمیں اکٹھے ہوکر نماز با جماعت اداکرتے ہیں۔ اس طرح نماز جمعہ کے بعد پھر عیدین کی نمازیں آتی ہیں۔ جس طرح کئی محلے کے افراد کسی ایک جامع مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں اسی طرح سارے شہر کے افراد ایک جگہ جمع ہو کر نماز عید ادا کرتے ہیں۔اسی طرح حج ایک ایسا فرض ہے جس میں ساری دنیا سے لاکھوں فرزندان توحید خانہ کعبہ میں حاضری دیتے ہیں اور فریضہ حج ادا کرتے ہیں۔ یہ بھی اجتماعی عمل ہوا۔ رمضان کا پروگرام بھی ایک اجتماعی پروگرام ہے ایسا پروگرام کہ ساری امت مسلمہ اللہ کے لئے پورا دن بھوکی پیاسی رہتی ہے۔ اللہ کے لئے اس نے روزہ رکھا یعنی اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا اس لئے کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم صبح سے شام تک بھوکے رہو تو وہ اجتماعی طور پر صبح سے شام تک بھوکے رہتے ہیں۔ جب اللہ نے یہ چاہا کہ اب تم بھوکے نہیں رہو تو روزہ افطار کر لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک اجتماعی عمل ہے۔ روزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھوک اور پیاس سے اللہ تعالیٰ کا کیا تعلق۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ آپ نے پیٹ کے تقاضوں کو اللہ کے لئے وقف کر دیا تو اب یہ جو بھوک پیاس کا شدید تقاضا ہے یہ اللہ سے ہم رشتہ ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے بندہ اللہ کی ذات سے قریب ہو جاتا ہے۔
یہ ایک فائدہ ہوا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جب انسان بھوکا اور پیاسا رہتا ہے سارا دن تو اس کے ذہن میں اس بھوکے پیاسے رہنے کے آداب بھی ہیں اس کو یہ معلوم ہے کہ روزہ رکھ کر آدمی جھوٹ بولے تو روزہ نہیں ہوتا اسے یہ بھی معلوم ہے کہ روزہ رکھ کر اگر بے ایمانی کی جائے تو روزہ نہیں ہوتا تو اس کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ سارا دن بھوکا رہنے کے باوجود بھی اگر میرا روزہ نہیں ہوا تو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کا فائدہ کیا ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ روزے میں زیادہ سے زیادہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ جھوٹ نہ بولے اور زیادہ سے زیادہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ وہ عبادت کرے۔

تیسرا فائدہ روزے کا یہ ہے کہ انسان کی صحت اچھی رہے گی جتنی بھی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اس کا کسی نہ کسی طرح تعلق پیٹ سے ہوتا ہے۔ اگر انسان کا پیٹ صحیح ہے تو وہ بیمار بھی نہیں ہوتا جو لوگ کھانے پینے میں احتیاط کرتے ہیں۔ ان کا نظام ہضم درست رہتا ہے وہ بیمار نہیں ہوتے وہ ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم بیمار ہوتے ہیں جو کھانے پینے میں بے احتیاط ہوتے ہیں۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں تو جب ہم صبح سے شام تک بھوکے رہیں گے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارے نظام ہضم کو طاقت ملے گی اور ہماری صحت بھی بحال ہو گی۔ ایک صحت مند آدمی دنیاوی کام ہو یا دینی کام ہو صحیح طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے۔

چوتھا فائدہ روزے کا جو روحانی نقطہ نظر سے وہ یہ ہے کہ انسان جب بھوکا رہتا ہے اور وہ بھوک اللہ کے لئے ہوتی ہے تو اس کے اندر اللہ کے انوار ذخیرہ ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ
’’روزے کی جزا میں خود ہوں‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات اور روشنیاں انسان کے اندر منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور جیسے جیسے وہ روشنیاں انسان کے اندر ذخیرہ ہوتی ہیں اسی مناسبت سے روح کے اندر بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ روح کے اندر طاقت پیدا ہوتی ہے تو پہلے رمضان سے 19رمضان تک ہر روزہ دار کے اندر ایسی صلاحیتیں بیدار اور متحرک ہو جاتی ہیں جن کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کے انوار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نور نبوت سے ہے اور روح نور نبوت کے انوار سے معمور ہو جاتی ہے اب جو 19دن بھوکا رہنے سے انوار اور روشنیاں ذخیرہ ہونگی ان سے فائدہ بھی اٹھانا چاہئے۔

مثلاً آپ کے پاس ایک بہترین گاڑی ہے اس کے اندر پیٹرول نہیں ہو گا تو گاڑی نہیں چلے گی یا اگر پیٹرول کم ہے تو گاڑی چلے گی اور بار بار رکے گی اب اس گاڑی کی ٹینکی کو آپ نے فل کرا لیا ہے اب ٹینک جب فل ہو گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گاڑی آپ کے سفر میں صحیح طور پر کام آئے گی اور اگر آپ اسے نہیں چلائیں گے تو گاڑی میں پیٹرول بھرا رہے گا اور ممکن ہے بہت زیادہ دن گزر جائیں تو وہ اڑ ہی جائے۔ مثال ناقص ہے لیکن سمجھانے کے لئے دینی پڑتی ہے یعنی مسلمان روزے دار جب 19دن میں اپنے اندر اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات کا ذخیرہ کرلیتا ہے تو اب اس کا استعمال زیر بحث آتا ہے۔ استعمال سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی روشنیاں روح کو پرواز کی طرف مائل کرتی ہیں اب روح کی عالم بالا کی طرف پرواز ہونی چاہئے۔
عالم غیب میں داخل ہو کر عالم غیب کا مشاہدہ کرنا چاہئے۔ مشاہدے کے لئے بہت زیادہ یکسوئی کی ضرورت ہے بہت زیادہ جسمانی سکون ضروری ہے تو اس جسمانی سکون کے لئے اور ذہنی یکسوئی حاصل کرنے کے لئے اعتکاف کا مسئلہ سامنے آتا ہے یعنی انسان اپنے دنیاوی مشاغل ترک کر کے بیوی بچوں سے دور ہو کر گھر بار چھوڑ کر کسی ایک گوشے میں صرف اور صرف اللہ کے لئے بیٹھ جائے اور وہ بیٹھنا دس دن کے لئے ہو۔

اب دس دنوں میں ۲۰ کے بعد سے ۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ رمضان المبارک کی راتوں میں لیلتہ القدر کی رات ہوتی ہے اب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:

’’ہم نے قرآن کو نازل کیا لیلتہ القدر میں۔‘‘

قرآن کیا ہے قرآن ایک دستور العمل ہے ایسا دستور العمل جو آپ کے لئے دنیاوی رہنمائی بھی کرتا ہے اور ایسا دستور العمل جو آپ کے لئے عالم بالا اور ماورائی دنیا کے لئے بھی رہنمائی کرتا ہے۔ تو لیلتہ القدر کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ لیلتہ القدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
ایک ہزار مہینوں سے افضل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ رات 30ہزار دن اور 30ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ 30ہزار دن 30ہزار راتوں کا جب ہم تذکرہ کرتے ہیں کہ انسان دن میں جاگتا ہے، بیدار رہتا ہے یعنی بیدار رہ کر زندگی گزارتا ہے حواس خمسہ میں رہ کر زندگی گزارتا ہے جذبات و احساسات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور رات میں بیداری سے ہٹ کر خواب کے عالم میں زندگی گزارتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہم یہاں سوتے ہیں تو سونے کے دوران حواس کی رفتار دن کے حواس کی رفتار سے زیادہ ہو جاتی ہے اس کی مثال یہ ہے کہ ہم یہاں سوتے ہیں اور خود کو لندن میں پاتے ہیں کوئی آدمی ہمارا پیر ہلاتا ہے تو پھر ہم ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں چارپائی پر موجود ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مہینوں کا سفر سیکنڈوں میں طے ہو جاتا ہے۔ خواب کے حواس میں ہماری رفتار بڑھ جاتی ہے اب ہم یوں کہیں گے اس کو سائنسی نقطہ نظر سے کہ ایک رات بہتر ہے تیس ہزار خواب کے حواسوں سے‘30ہزار دن کے حواس سے‘ اب اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ ایک رات بہتر ہے ساٹھ ہزار دن اور رات سے‘ یعنی ایک انسان جتنا سفر 60ہزار دن اور رات میں کرتا ہے اگر اس کے اندر لیلتہ القدر کے حواس اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت سے متحرک اور بیدار ہو جائیں تو وہی بندہ ایک رات میں ساٹھ ہزار رات اور دن کے برابر سفر کرے گا۔

اگر عبادت میں اس کا ذہن یکسو ہو گیا اور اللہ تعالیٰ سے ربط قائم ہو گیا تو وہ ساٹھ ہزار گناہ رفتار سے سفر کرے گا۔

یہ جو لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں یہ فی الواقع ماورائی دنیا میں داخل ہونے کا پروگرام ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ اگر رمضان کے روزے 20دن تک صحیح معنوں میں رکھ لے اور اس کے بعد اعتکاف میں بیٹھا جائے تو ذہنی مرکزیت حاصل ہونے کے بعد انسان کو مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا ہے۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے:

’’مومن کو مرتبہ احسان حاصل ہوتا ہے‘ مرتبہ احسان کے دو درجے ہیں ایک درجہ یہ ہے کہ بندہ محسوس کرے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ یہ محسوس کرے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘

رمضان کے پروگرام کی کامیابی کے نتیجے میں اگر فی الواقع صحیح معنوں میں جدوجہد اور کوشش کی جائے تو مومن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کے مطابق مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا ہے اور یہی اعتکاف بھی ہے۔ اس لئے اعتکاف کرنا چاہئے۔

روحانی لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ کثرت سے درود شریف، کلمہ تمجید اور قرآن پاک پڑھنا چاہئے۔ قرآن پاک کے معنی و مفہوم پر غور و فکر کرنا چاہئے‘ مراقبہ کرنا چاہئے‘ مراقبے سے مراد یہ ہے کہ آپ جب بھی کچھ پڑھیں تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں اور یہ تصور کریں کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے مجھے اللہ دیکھ رہا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت سے یہ تصور قائم ہو جائے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے یہ چار پانچ دن میں ہو جاتا ہے اور اعتکاف میں آدمی بیٹھے تو پھر بقایا دن جو ہیں اسے اس بات کا مراقبہ کرنا چاہئے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ دور تو نہیں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا:

’’میں تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہوں۔‘‘

اب یہ ہے کہ ہم اسے دیکھیں تو سہی اسے پکاریں تو سہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جہاں تم ایک ہو وہاں میں دوسرا ہوں جہاں تم دو ہو وہاں میں تیسرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے:
’’میں نے تو تمہیں احاطہ کیا ہوا ہے، میں تو ایک دائرہ ہوں تم اس کے اندر ہو۔‘‘

تو یہ اللہ تعالیٰ کا جو فرمان ہے جب ہم اس پر غور و فکر کریں گے اللہ تعالیٰ کو تلاش کریں گے اللہ تعالیٰ کہیں دور نہیں ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بستے ہیں۔
اللہ تعالیٰ دل میں بستے ہیں، رگ جان سے زیادہ قریب ہیں تو رمضان میں جو اعتکاف ہے اس کی بہت ہی فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی برکات سے فیضیاب کرے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اعتکاف میں بیٹھیں اور زیادہ سے زیادہ مراقبہ کریں۔ مراقبہ میں یہ تصور کریں کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے یا میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 259 تا 265

توجیہات کے مضامین :

ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - صاحبِ صلاحیت  ِ 3 - صاحب خدمت  ِ 4 - عقل وشعور  ِ 5 - اللہ کا نور  ِ 6 - دوسرے سیاروں کی مخلوق  ِ 7 - پر عظمت ہستی  ِ 8 - طرزِ فکر  ِ 9 - علم حضوری  ِ 10 - حقیقتِ مذاہب  ِ 11 - غیب بینی  ِ 12 - خواب کی حالت  ِ 13 - ماوراء ذات  ِ 14 - تصرف  ِ 15 - علم کا مظاہرہ  ِ 16 - علمِ حصولی  ِ 17 - اعراف کیا ہے  ِ 18 - علم کی طرزیں  ِ 19 - جسمِ مثالی  ِ 20 - روشنیوں کا ہالہ  ِ 21 - Time & Space  ِ 22.1 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 1  ِ 22.2 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 2  ِ 23 - انعام یافتہ  ِ 24 - تصورِ شیخ  ِ 25 - اللہ کی مہر  ِ 26 - اللہ کے دوست  ِ 27 - استغناء، توکل اور بھروسہ  ِ 28 - وسائل کی فراہمی  ِ 29 - خرق عادت  ِ 30 - صلاحیتوں کا ذخیرہ  ِ 31 - راسخ العلم  ِ 32 - حصول یا منتقلی  ِ 33 - ترقی اور تنزلی  ِ 34 - علم الاسماء  ِ 35 - ذاتِ مطلق  ِ 36 - بیمار درخت  ِ 37 - نیابتِ الہی  ِ 38 - رنگین دُنیا  ِ 39 - بے جا اسراف  ِ 40 - نفسِ واحدہ  ِ 41 - کام اور آرام  ِ 42 - روشنیوں کا سیب  ِ 43 - راہِ سلوک کےآداب  ِ 44 - سلطان کیا ہے  ِ 45 - مٹھاس کا استعمال  ِ 46 - رویائے صادقہ  ِ 47 - دُعا کے آداب  ِ 48 - فیض کا حاصل ہونا  ِ 49 - نماز کی اقسام  ِ 50 - بیعت کا قانون  ِ 51 - نیگٹو بینی  ِ 52 - اعتکافِ رمضان
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)