اصحاب الفیل

کتاب : باران رحمت

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=20299

تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا، کیا ان کے داؤ کو تباہی میں نہیں ڈالا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں بھیجیں کہ انھیں کنکر کے پتھروں سے ماریں توانہیں کر ڈالا کھائے ہوئے بھس کی طرح۔

(سورۃ الفیل)

حضرت ابراہیم ؑ نے اﷲ تعالیٰ کے حکم سے مکہ میں اﷲ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا ہے۔ عرب کے لوگ خانہ کعبہ میں ہر سال حج کیلئے آتے تھے۔ خانہ کعبہ کا انتظام قریش کے ہاتھ میں تھا اس لئے عرب کے دوسرے تمام قبائل قریش کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

عرب کے جنوب میں ایک ملک یمن واقع تھا۔ یمن میں عیسائی بادشاہ ابرھہ کی حکومت تھی۔ وہ ایک نہایت متعصب اور موقع پرست گورنر تھا۔ اس نے حبشہ کے بادشاہ کے ساتھ غداری کرکے یمن پر قبضہ کرلیا اوربادشاہ کو قتل کردیا۔ اس نے جب دیکھا کہ عرب خانہ کعبہ کا حج کرتے ہیں تو اس نے عربوں کو نیچا دکھانے اور مذہب سے دور کرنے کیلئے یمن کی دارالسلطنت صنعہ میں ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کروائی۔

اس نے عمارت میں سفید، سرخ، زرد ا ور سیاہ پتھر لگوائے۔ اس کی دیواروں میں جگہ جگہ سونے اور چاندی کے پترے لگوائے۔ اس عمارت میں لگے ہوئے دروازوں اور کھڑکیوں میں خوبصورتی کیلئے سونے کی میخیں لگائی گئیں ۔ زربُفت کے پردوں سے اس عمارت کو آراستہ کیا گیا تھا۔

خوبصورتی میں یہ عمارت دنیا میں ایک عجوبہ تھی۔ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے مینار بنے ہوئے تھے جن میں عود اور عنبر جلتا تھا خوشبو سے پوری عمارت مہکتی رہتی تھی۔ فرش پر بہترین قالین بچھے ہوئے تھے۔ یہ عمارت خوبصورتی اور تزئین و آرائش میں اپنی مثال آپ تھی۔ ابرھہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ آئندہ خانہ کعبہ کی جگہ اس عبادت گاہ میں آکر حج اور طواف کریں۔

شواہد ملتے ہیں کچھ عرصے تک لوگ اس گھر کا حج کرتے رہے آخرکار ایک رات اس میں کسی نے غلاظت ڈال دی۔ جب ابرھہ کو پتا چلا تو غصہ میں آگ بگولہ ہوگیا اس نے خانہ کعبہ پر فوج کشی کا ارادہ کیااور ہزاروں کی تعداد میں فوج جمع کی۔ اس کا ارادہ تھا کہ فوج کشی کرکے خانہ کعبہ کو (نعوذباﷲ) منہدم کردیا جائے۔ ابرھہ نے اپنے لئے ایک ہاتھی کا انتخاب کیا۔ اس کے لشکر میں بارہ یا تیرہ ہاتھی تھے۔ ابرھہ نے جس ہاتھی کا انتخاب کیا تھا وہ اتنا طاقتور تھاکہ موٹی سے موٹی دیوار کو ٹکر مار کر گرا دیتا تھا۔

فوج کشی کیلئے ابرھہ یمن سے مکہ روانہ ہوا اور مکہ میں داخل ہونے کیلئے مکہ کے اطراف میں پڑاؤ ڈالا۔اس جگہ مکہ کے لوگوں کے مویشی چرتے تھے۔ ابرھہ کے لشکر نے وہ مویشی پکڑلئے ان میں دو سو اونٹ حضور علیہ الصلوٰۃۃ والسلام کے جدِ امجد حضرت عبدالمطلب کے تھے۔ اس وقت حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے متولی اور قریش کے سردارتھے۔

جب ان کو لشکر کشی کی خبر ملی کہ ابرھہ مکہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو انہوں نے قریش کو جمع کیا اور میٹنگ کر کے یہ طے کیا کہ مکے کو خالی کردیا جائے۔

حضرت عبدالمطلب نے فرمایا :

’’خانہ کعبہ کو کوئی منہدم نہیں کرسکتا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا گھر ہے، اﷲ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کریں گے ۔‘‘

میٹنگ میں یہ طے پایا کہ ابرھہ سے ملاقات کی جائے چنانچہ حضرت عبدالمطلب قریش کے چند بزرگوں کے ساتھ ابرھہ سے ملنے گئے۔

ابرھہ نے حضرت عبدالمطلب کا نہایت پُر جوش استقبال کیا۔ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عبدالمطلب کو بے مثال حسن و جمال عطا کیا تھا اور حضرت عبدالمطلب کی شخصیت وقار اور دبدبے میں بے مثال تھی۔ حضرت عبدالمطلب کو جو دیکھتا تھا مرعوب ہوجاتا تھا۔

ابرھہ حضرت عبدالمطلب کو دیکھ کر مرعوب ہوگیا اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ استقبال کیا۔ ابرھہ نے یہ تو مناسب نہ سمجھا کہ حضرت عبدالمطلب کو تخت پر اپنے برابر بٹھائے۔ اس نے اعزاز واکرام میں یہ روش اختیار کی کہ خود تخت سے اتر کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔

دورانِ گفتگو حضرت عبدالمطلب نے اپنے اونٹوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ابرھہ نے حیران ہوکر کہا:

’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کے بارے میں بات کی اور خانہ کعبہ جو آپ کا اور آپ کے آباؤ اجداد کے دین اور مذہب کا مقام ہے اس کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں فرمایا ۔ ‘‘

حضرت عبدالمطلب نے فرمایا:

’’ میں اونٹوں کا مالک ہوں ، اس لئے میں نے اونٹوں کا سوال کیا اور خانہ کعبہ اﷲ تعالیٰ کا گھر ہے۔ اﷲ تعالیٰ خود اپنے گھرکی حفاظت فرمائیں گے۔ ‘‘

ابرھہ تھوڑی دیر خاموش رہا اور اس کے بعد حضرت عبدالمطلب کے اونٹوں کے واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ حضرت عبدالمطلب اپنے اونٹوں کو لے کر مکہ واپس آگئے اور قریش کو حکم دیا کہ مکہ خالی کردیں اور تمام اونٹوں کو خانہ کعبہ کی نذر کردیا اور چند آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر خانہ کعبہ آئے اور سب نے گڑگڑاکر دعائیں مانگیں۔

’’آپ سے درخواست ہے ، دعا ہے ، التجا ہے کہ اے اﷲ! بندہ اپنی جگہ کی حفاظت کرتاہے، آپ اپنے گھرکی حفاظت فرمایئے اور اہلِ صلیب کے مقابلے میں ہماری مدد فرمایئے۔ ان کی صلیب اور ان کی تدبیر آپ کی تدبیر پر کبھی غالب نہیں آسکتی۔ یہ لوگ لشکر اور ہاتھی لے کر آئے ہیں تاکہ آپ کے عیال کو قید کریں۔ آپ کے حرم کی بربادی کیلئے آئے ہیں جہالت کی بنا پر یہ ارادہ کیا ہے آپ کی عظمت و جلال کا خیال نہیں کیا ۔‘‘

حضرت عبدالمطلب اﷲ تعالیٰ سے دعا کر کے ہمراہیوں کے ساتھ پہاڑ پر چڑھ گئے ۔ اس مجمع میں بوڑھے جوا ن سب موجود تھے ۔ مجمع میں موجود نوجوانوں نے حضرت عبدالمطلب کی خدمت میں عرض کیا:

’’ ہم ابرھہ سے لڑیں گے اور اسکے لشکر کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

حضرت عبدالمطلب نے نوجوانوں کا جوش و خروش دیکھ کر فرمایا:

’’ ہمیں عقلمندی اور ہوش کے ساتھ اس معاملے کو حل کرنا چاہیئے۔ بظاہر ہماری اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کرسکیں ۔‘‘

باہم مشورہ سے یہ طے پایا کہ عورتیں اور بوڑھے مر دمکہ میں رہیں گے اور نوجوان کفن پہن کر مکہ سے کوچ کریں گے اور ابرھہ کی فوج جدھر سے گزرے گی وہاں لیٹ جائیں گے تاکہ ہماری قربانی اﷲ تعالیٰ قبول فرما لیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت عبدالمطلب نوجوانوں کو ساتھ لے کراس مقام پر لیٹ گئے، جہاں سے ابرھہ کی فوج کو گزرنا تھا اور دعا کی اﷲ تعالیٰ ہماری قربانی قبول فرما اور اپنے گھر کی حفاظت فرما۔

دوسری طرف سے ابرھہ نے مکہ پر فوج کشی کیلئے لشکر تیار کیا اور بِگل بجا کر کوچ کرنے کا حکم دیا۔ جب لشکرمزدلفہ اور منیٰ کے درمیان محسر میں پہنچا تو ابرھہ کا ہاتھی بیٹھ گیا۔ اس کو اٹھا نے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہیں اٹھا۔ ہاتھی کو آنکس مارے گئے، لیکن وہ نہیں اٹھا۔ جب مکہ کی دوسری طرف سے اٹھایا گیا تو وہ فوراً اُٹھ کر تیزی سے یمن کی طرف بھاگنے لگا اور جب اس کامنہ مکہ کی طرف کرتے تھے تو وہ بیٹھ جاتا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ زمین نے اس کو پکڑ لیا ہے۔

شان و شوکت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابرھہ کی فوج نے جب پیش قدمی کی تو اﷲ تعالیٰ نے اس فوج کو وادیٔ محسر میں روک دیا ۔

پتھروں سے عربوں نے اسلحہ کاکام لیا اور فوج پر سنگ باری کی۔ اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں پر سنگ باری کرنے والی ہو انازل فرمادی جس کی وجہ سے فوج تتر بتر ہوگئی اورآسمان میں بے شمار چڑیاں نمودار ہوئیں۔

قرآن پاک میں ان کا نام ’’ابابیل ‘‘ہے۔ ابابیل چڑیا سے چھوٹی ہوتی ہے۔ یہ چڑیاں لشکر پر باجرے کے دانے کے برابر کنکریاں گراتی گئیں۔

فوج کے جس سپاہی پر یہ کنکریاں گرتی تھیں۔ ان کے جسم پر چیچک نکل آتی تھی اور جیسے ہی جسم پر کنکریاں لگتی تھیں جسم گلنے لگتا تھا۔ لشکر میں فوج کی کثیر تعداد چیچک کی وجہ سے ہلاک ہوگئی۔ ان کنکریوں کے لگنے سے لشکر میں ایسی بھگدڑ مچی کہ فوجی ایک دوسرے کو روندتے کچلتے ہوئے بھاگ نکلے۔ بھاگنے والے ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور مر رہے تھے۔ ملک الموت نے انہیں اتنی بھی مہلت نہیں دی کہ وہ ابرھہ کے فوجیوں کی لاشیں اٹھاسکیں۔

اﷲ تعالیٰ نے ابرھہ پر ایسی آفت نازل کی کہ ابرھہ کی انگلیوں کے پور جھڑ گئے، پھر سینہ پھٹ گیا، دل باہر نکل آیااور وہ تڑپ تڑپ کر مرگیا اور دشمنوں پر چڑیوں کا غیض و غضب ضرب المثا ل بن گیا۔یہ واقعہ حضور علیہ الصلوٰۃۃ والسلام کی پیدائش سے پچاس دن پہلے کا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 43 تا 46

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)