اس کونے سے اس کونے تک

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7933

جب تک ہمیں کسی چیز کا علم حاصل نہیں ہوتا ہم اس چیز سے واقف نہیں ہوتے اور علم کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی منبع (Source) ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس Sourceسے حاصل شدہ علوم کے لئے ایسی ایجنسی موجود ہو جہاں علم ذخیرہ ہو۔ اس کے بعد یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسی ایجنسی موجود ہو جو اس کے اندر معانی پہنا سکے اور آخری حد میں ایک اور ایسی ایجنسی کا موجود ہونا لازم ہے جس پر علم کا مظاہرہ ہو۔
مثال:
آدمی کو بھوک لگی یعنی اس کو یہ اطلاع ملی کہ اب جسم کو کچھ کھانے کی ضرورت ہے۔ جس ایجنسی نے یہ اطلاع قبول کی اس نے اس علم کے اندر معنی پہنائے وہ یہ کہ روٹی کھانی چاہئے۔ پھل کھانے چاہئیں وغیرہ وغیرہ اور اس اطلاع کو جسمِ مثالی نے قبول کر کے مظاہرہ کیا اور آدمی نے یہ محسوس کیا کہ اس نے روٹی کھا لی ہے۔
جہاں تک جسمانی تقاضے پورے کرنے کا تعلق ہے وہ عالمِ ناسُوت ہو، عالمِ اَعراف ہو یا عالمِ جنّت و دوزخ ہو ایک ہی طرح کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ جنّت اس لئے جنّت ہے کہ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں ہیں۔ جنّت میں پھل ہیں اور آدمی کی آسائش اور آرام کے لئے بے شمار وسائل مہیا ہیں۔
دوزخ اس لئے دوزخ ہے کہ وہاں ایسے حالات میں آدمی زندگی گزارتا ہے جن حالات کی علمی حیثیت تکلیف ہے۔ کھانا جنّت میں بھی میسر ہے اور کھانا دوزخ میں بھی میسر ہے۔ جنّت کا کھانا دودھ، شہد، پھل ہیں۔ دوزخ کا کھانا ایسی غذائیں ہیں جن سے آدمی کے اندر کراہت پیدا ہوتی ہے۔
قانون:
کھانے کا علم دونوں جگہ موجود ہے۔ کھانے کے اسباب اور سامان بھی دونوں جگہ موجود ہیں لیکن دونوں جگہ معنویت الگ الگ ہے۔
جنّت کا کھانا اس لئے اچھا ہے کہ اس میں معنویت اچھی ہے۔ دوزخ کا کھانا اس لئے اچھا نہیں ہے کہ اس کے اندر پشیمانی، تکلیف اور آہ و بکا ہے۔ مختصر طور پر اس بات کو اس طرح کہا جائے گا کہ یہ ساری کائنات دراصل علم ہے اور علم کی طرزیں یہ ہیں کہ اس میں معنی پہنائے جاتے ہیں۔
جسمِ مثالی ایک ایسی ایجنسی ہے جو علم میں معنی پہناتی ہے۔ جب آدمی عالمِ ارواح سے نزول کر کے اس دنیا میں آتا ہے تو جسمِ مثالی اس عالَم کے اندر ایسے معنی اور مفہوم اخذ کرتا ہے جس میں آدمی قید ہے بند ہے۔ ہر ہر قدم قید و بند میں جکڑا ہوا ہے۔ جسمِ مثالی جب عالمِ ناسُوت سے باالفاظ دیگر اس گوشت کے جسم سے اپنا رشتہ منقطع کر کے دوسرے عالَم میں جاتا ہے اور وہاں کی فضا اور ماحول سے اپنے لئے ایک نیا لباس بناتا ہے تو اس کے معنی اور مفہوم بدل جاتے ہیں۔ اس عالَم کے معنی اور مفہوم میں ٹائم اور اسپیس اتنا مختصر ہو جاتا ہے کہ تقریباً اس کی نفی ہو جاتی ہے لیکن ٹائم اسپیس کلیتاً ختم نہیں ہوتا۔ ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ عالمِ ناسُوت کی طرح اَعراف میں بھی یہی زمین ہے اور عالمِ ناسُوت کی طرح عالمِ اَعراف میں بھی گھر ہیں۔ وہاں آدمی کھانا بھی کھاتا ہے، پانی بھی پیتا ہے، چلتا پھرتا ہے، اپنے عزیز و اقربا سے ملاقات کرتا ہے، خوش ہوتا ہے اور روتا بھی ہے۔ خوش ہونا یا غمگین ہونا، گھروں میں رہنا، چلنا پھرنا، دھوپ کی تپش محسوس کرنا اور موسم کے ردّ و بدل میں زندگی گزارنا ٹائم اسپیس کے حدود کی نفی نہیں کرتا البتہ انسانی زندگی کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
مثال:
ایک آدمی کراچی میں مر گیا اس کے عزیز و اقربا دہلی میں ہیں۔ عالمِ اَعراف میں رہنے والا کوئی بندہ جب اپنے عزیزوں سے ملنے دہلی جائے گا تو ٹائم اسپیس مختصر ہو کر دو قدم بن جائے گی مگر قدم موجود ہیں، زمین موجود ہے لہٰذا ٹائم اسپیس بھی موجود ہے۔ جیسے جیسے آدمی اِس عالَم سے اُس عالَم میں اور دوسرے عالمین میں منتقل ہوتا رہتا ہے اس کی رفتار بڑھتی رہتی ہے اور ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ اس کا ایک قدم عالمِ ناسُوت میں ہوتا ہے اور دوسرا قدم عرش معلیٰ پر ہوتا ہے۔
علم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر بندہ پابند اور مجبور ہو کر ایک گھنٹے میں تین میل کا فاصلہ طے کرنا چاہے تو اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور اگر آدمی آزاد اور خود مختار ہو کر فاصلے کی نفی کر دے تو ایک قدم کے بعد اس کا دوسرا قدم آسمان پر پڑتا ہے۔
زمین پر بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے ارادہ کیا کہ میں عرش معلیٰ پر اللہ کریم کے حضور سجدہ ریز ہوں تو اس ارادہ کے ساتھ اس کے سامنے یہ بات مشاہدہ بن جاتی ہے کہ اللہ اپنی صفات حمیدہ کے ساتھ عرش پر متمکن ہے اور بندہ اس کے سامنے سربسجود ہے۔ یہ کہنا کہ انسان آسمانوں کی سیر نہیں کر سکتا یا اللہ کے حضور سجدہ ریز نہیں ہو سکتا یا یہ کہنا کہ کوئی بندہ اللہ کو نہیں دیکھ سکتا اتنی بڑی جہالت اور اتنا بڑا ظلم ہے کہ جس کے سامنے کوئی بڑی جہالت اور کوئی ظلم نہیں ٹھہرتا۔ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ انسان بلا کسی فاصلے کے روشنی کے دوش پر امریکہ سے کراچی منتقل ہو جاتا ہے۔ وہ امریکہ میں بات کرتا ہے ہم ٹی وی پر اسے سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں مگر روشنیوں کے جسم سے آسمانوں کی رفعت کو نہیں چھو سکتا۔ کوئی بندہ اگر اپنے اندر اس صلاحیت سے واقف ہو جائے جس صلاحیت نے ٹی وی ایجاد کر لیا ہے تواس کے لئے کس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس کونے سے اس کونے پر اِس عالَم سے اُس عالَم میں اپنے ارادہ اور اختیار سے منتقل نہ ہو جائے۔
پہلے جو باتیں جادو اور طلسمات کے نام سے مشہور تھیں اور جن کو ہمارے دانشور کرامات کہتے تھے آج وہی سب چیزیں ہماری آنکھوں کے سامنے سائنسی ایجادات کی شکل میں ہیں۔
آدمی کس قدر عجیب ہے ایک طرف اتنا بے بس اور مجبور ہے کہ سو قدم کی آواز نہیں سن سکتا اور دوسری طرف اتنا آزاد ہے کہ اپنی ہی ایجادات کے ذریعے ہزاروں میل کی آواز سن لیتا ہے۔ ہزاروں میل دور ٹی وی اسکرین پر خود کو ظاہر کر دیتاہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 118 تا 122

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)