استغنائی طرزِ فکر

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12689

سوال: استغنائی طرزِ فکر کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے؟

جواب: انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں۔ ایک دماغ وہ ہے جو آدم کو جنّت میں حاصل تھا یعنی ایسا دماغ جو نافرمانی سے نا آشنا تھا۔ اور دوسرا دماغ جو نافرمانی کے بعد حاصل ہوا۔ جب تک آدم نے جنّت میں حکم عدولی نہیں کی تھی تو اسے فرمانبرداری والا دماغ حاصل تھا۔ جب انسان نے نافرمانی کی تو اسے دوسرا دماغ ملا۔ جو حکم عدولی اور نافرمانی کا دماغ قرار پایا اور یہ ورثہ نسلِ آدم میں منقل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آج بھی نسلِ آدم کے پاس ورثہ میں وہی اسفلُ السافلین کا دماغ موجود ہے جس کا مظاہرہ آج بھی انسان کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
جب تک آدم جنّت میں رہے ان کا ربط برابر اللہ تعالیٰ سے رہا۔ لیکن آدم نے جنّت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ ربط ٹوٹ گیا۔ جہاں اس ربط کے ٹوٹنے کا اثر اور بہت سی باتوں پر پڑا اس سے یقین بھی متاثر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اس ربط کو آسانی سے دوبارہ قائم نہیں کر سکا اس لئے اس کے سوچنے کا انداز متاثر ہوا۔ اور انسان وہ طرزِ فکر حاصل کرنے میں ناکام رہا جو پُرسکون اور امن اور چین کی زندگی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔
آج کا انسان ماضی کے لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مایوس ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو مستقبل میں لوگ اس سے بھی زیادہ مایوس ہونگے۔ یہ مایوسی انسان کو کسی کام کا نہیں رہنے دیتی۔ مایوسی میں انسان پر بے یقینی چھا جاتی ہے اور وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ اس کی طرزِ فکر میں تبدیلی آ جاتی ہے سوچ کا انداز وہ نہیں رہتا جو اللہ تعالیٰ پر بھروسے کے لئے ضروری ہے۔
انسان کی سوچ کا انداز یہ ہونا چاہئے کہ ہر کام، مسئلہ، معاملہ اللہ کی طرف سے ہے۔ انسان کا اس مسئلہ یا معاملہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اور اس کی مرضی سے ہو رہا ہے یا جو چیزیں یہاں موجود ہیں ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہم سے ہر بات کا تعلق اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔ جب آہستہ آہستہ سوچ کا یہ انداز ہو جاتا ہے تو یہ ایک عادت بن جاتی ہے۔ اس طرح جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو انسان یہ سوچتا ہے کہ اس بات سے ہمارا تعلق یا واسطہ صرف اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو انسان اس مسئلہ کے حل کے سلسلہ میں جدّ و جہد کرے اور نتیجہ اللہ کے حوالہ کر دے اپنی مرضی کے مطابق نتیجہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچے بھی نہیں۔ بلکہ یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ وہ کر دے جس میں ہماری بہتری ہو۔ جب انسان کی طرزِ فکر اس طرح کی ہو جاتی ہے۔ درحقیقت یہی استغنائی طرزِ فکر ہے۔
اس صورت حال میں کبھی کبھی تکلیف اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر یہ صورت زیادہ عرصے تک نہیں رہتی۔ صحیح طرزِ فکر کی وجہ سے کچھ عرصے بعد اچھے نتائج خود بخود برآمد ہونے لگتے ہیں۔
استغنائی طرزِ فکر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ کوشش اور جدّ و جہد شرطِ اوّل ہے۔ یہ سوچ لینا کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر دے گا ہم خود کچھ نہ کریں۔ یہ سوچ غلط ہے۔ اس سے انسان پر جمود طاری ہو جاتا ہے۔ یہ جمود انسان کو بے کار اور ناکارہ بنا دیتا ہے۔ انسان ایک حرکت ہے۔ زندگی حرکت کا نام ہے۔ یعنی متحرّک رہنا زندگی کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ جمود ایک طرح سے انسانی صلاحیتوں کی موت ہے۔ اس لئے انسان متحرّک رہ کر ہی اللہ تعالیٰ سے اچھے نتائج حاصل کرنے کی توقع کر سکتا ہے۔
اگر انسان کے سوچنے کا انداز صحیح راستہ اختیار کرے اور انسان پختہ یقین کے ساتھ اس طرزِ فکر کو اپنا بنا لے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسان مایوسی سے بچ جائے اور مسائل کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو۔ اصل مسئلہ یقین کا ہے۔ یقین میں اتنی طاقت ہوتی ہے جس کا خود انسان کو اندازہ نہیں ہوتا۔ انبیاء اور اوّلیاء اللہ کو یہی یقین کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ وہ ہر طرف سے بے فکر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ان کی مدد اور کفالت فرماتا ہے۔ انسان یقین محکم کے ساتھ کوشش و جدّ و جہد کرے تو اللہ تعالیٰ ایسے بندہ کی تمام تر ذمہ داری خود اٹھا لیتا ہے۔
إستغناء اللہ تعالیٰ کی صفَت صمدیت کا عکس ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اسے کسی چیز کی ضرورت و حاجت نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر ایک بندہ اپنی تمام حاجتوں اور ضرورتوں کا کفیل اللہ تعالیٰ کو ٹھہرا کر بَریُ الذِّمّہ ہو جائے یعنی وہ یہ سوچنے لگے کہ میری تمام ضرورتوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور اللہ ہی ان کو پورا کرنے والا ہے۔ میرا کام صرف کوشش کرنا ہے۔ یہ سوچ ایک طرف تو بندے کو بے فکر کر دیتی ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ بھی بندہ کی ضرورتوں کی کفالت کی طرف توجہ دینے لگتا ہے۔
اگر انسان صرف اپنی کوشش اور جدّ و جہد کی طرف توجہ دے اور نتائج سے بے فکر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف پوری توجہ دے گا اور بندے کے حق میں اچھے نتائج برآمد ہونگے۔
استغنائی طرزِ فکر حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ بندے کی طرزِ فکر اس طرزِ فکر سے ہم رشتہ ہو جائے جو اللہ کی طرزِ فکر ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 160 تا 163

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message