احسن تقویم

کتاب : صدائے جرس

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=18508

دل نے چاہا کہ اپنے محسن، اپنے سرتاج، اپنے جسم مثالی، اپنے ہمدرد و غم گسار، رحمت پروردگار، نورعین، آواز حق، مرشد کریم قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی وہ باتیں آپ کو سناؤں گا جو میری زندگی بن گئی ہیں۔

یہ بات اب پردہ نہیں رہی کہ پانچ ہزار ایک سو دس دن رات کو اگر گھنٹوں سے ضرب دیا جائے اور بائیس ہزار چھ سو چالیس گھنٹوں کو منٹ سے ضرب دیا جائے اور ہر منٹ پر ایک بات چیلے نے گرو سے سنی ہو تو بہتر لاکھ اٹھاون ہزار چار سو (7258400) باتیں مرشد سے مرید کو منتقل ہوئی ہیں۔

یہ سب باتیں اس وقت علم بن جاتی ہیں جب گرو چیلے کے دماغ کی اسکرین کو واش(wash) کر دے۔ اب اتنی ساری باتیں تو میں اپنے گرو کی آپ کو نہیں سنا سکتا کیونکہ سننے والے دماغ کی اسکرین پر اس سے بہت زیادہ صدیوں پہلے کے نقوش اور تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ ہاں!

ایسی کچھ باتیں میں آپ کو ضرور سنانا چاہتا ہوں جو اسفل میں گرے ہوئے انسانوں کو ’’احسن تقویم‘‘ بنا دیتی ہے۔ مرشد نے فرمایا:

’’جو کھوتا ہے وہ پاتا ہے اور جو پالیتا ہے وہ خود کھو جاتا ہے۔‘‘

انسان ایک ایسا کمپیوٹر ہے جس میں بارہ کھرب خلئے(Cells) ہیں۔ موجودہ دور میں اس کمپیوٹر کو چلانے والے خلیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد سوا دو سو ہے۔ جس کو ہم آسمان جانتے ہیں یہ آسمان نہیں خلاء ہے۔ زمین پر کوئی چیز بھی بے رنگ نہیں ہے۔ سمتیں چار نہیں چھ ہیں۔

آسمان پر آنکھ جو ستارے دیکھ سکتی ہے ان کی تعداد دس ہزار ہے۔ پوری کائنات طبقاتی تقسیم ہے۔ زمین بھی طبقات پر قائم ہے۔ ہر شئے خواہ ہو چھوٹی سے چھوٹی ہو یا بڑی سے بڑی روشنی کے غلاف میں بند ہے اور روشنی کے اوپر نور منڈھا ہوا ہے۔ ازل سے زمین تک آنے میں اور زمین سے ازل تک پہنچنے میں ہر انسان کو تقریباً سترہ مقامات (Zones) سے گزرنا پڑتا ہے۔ انسان کٹھ پتلی کی طرح ہے ایک انسان میں بیس ہزار ڈوریاں بندھی ہوئی ہیں۔ ایک ایک ڈوری ایک ایک فرشتے نے سنبھالی ہوئی ہے۔ انسان عالم مثال میں الٹا لٹکا ہوا ہے۔ پیر اوپر سر نیچے ہے۔

زمین پپیتے کی طرح ہے اور Six Demension Screenہے۔ آبادی زمین کے اندر نہیں زمین کے اوپر ہے۔ زمین محوری اور طولانی گردش میں لٹو کی طرح گھوم رہی ہے۔ زمین دس ہزار سال کے بعد اپنی پوزیشن تبدیل کر دیتی ہے۔ جہاں پانی ہے وہاں آبادیاں اور جہاں آبادی ہے وہ جگہیں زیر آب آ جاتی ہیں۔

زمین دراصل آدم و حوا کا وہ شعور ہے جو ارتقاء کی طرف گامزن ہے۔ گوشت پوست کا جسم روح کا باس ہے جب لباس پرانا ہو جاتا ہے یا داغ دھبے پڑ جاتے ہیں تو روح لباس کو اتار کر پھینک دیتی ہے۔ اصلی اور حقیقی ماں زمین ہے۔ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کی سڑاند اور تعفن کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔

گرو نے کہا کہ کسی کو بنانے کے لئے اپنا سب کچھ کھونا پڑتا ہے۔ سچا گرو وہ ہے جو چیلے کی طرز فکر اللہ کی طرز فکر کے مطابق بنا دے۔ مال و زر، دولت و دنیا انسان کے لئے بنائی گئی ہیں۔ جب کہ انسان یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ مجھے دنیا کے لئے بنایا گیا ہے۔ سخاوت اعلیٰ ظرف لوگوں کا شیوہ ہے۔ دسترخوان وسیع ہونا چاہئے۔ کم ظرف لوگ دوسروں سے توقعات قائم کرتے ہیں۔ اعلیٰ ظرف لوگ مخلصانہ خدمت کرتے ہیں۔ ماں کی خدمت انسان کو حضرت اویس قرنیؒ بنا دیتی ہے۔ غصہ آگ ہے، آگ دوزخ ہے۔

بچے اللہ میاں کے باغ کے پھول ہیں۔ بچہ ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے۔ استاد تراش خراش کر اسے ہیرا بنا دیتا ہے۔ دین سے دنیا سنبھالنی مشکل ہے۔ اس لئے کہ اللہ ستارالعیوب اور غفار الذنوب ہے۔ اللہ باہر نہیں ہر شخص کے اندر ہے۔ جو چیز باہر نہیں ہے اس کو باہر ہزاروں سال بھی ڈھونڈا جائے نہیں ملے گی۔

وسائل کے لئے کوشش اور جدوجہد کرو لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔

انتقام ہلاکت اور بربادی ہے۔ عفو و درگذر اللہ کا انعام ہے۔

ہمارے بچے دراصل ہمارے اسلاف ہیں۔ ان کی تربیت اس طرح کرنی چاہئے کہ کل یہ بچے اسلاف کے مقام پر فائز ہو جائیں۔

اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ صبر یہ ہے کہ درگزر کیا جائے۔ جس آدمی میں شک ہے، قرآن اس پر اپنی حکمت آشکار نہیں کرتا۔ زر و جواہر سے زیادہ کوئی شئے بے وفا نہیں ہے جس نے زر و جواہر سے محبت کی وہ ہلاک ہو گیا اور جس نے دولت کو پیروں کے نیچے رکھا دولت ہمیشہ اس کی کنیز بنی رہی۔

جنت اس کی میراث ہے جو خوش رہتا ہے۔ ناخوش آدمی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اللہ کے دشمن کو جنت قبول نہیں کرتی۔ اللہ کے دشمن کی پہچان یہ ہے کہ اس کے اوپر خوف و غم مسلط رہتا ہے۔ گدھ کی طرح وسوسے اس پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ مشاہداتی آنکھ دیکھتی ہے کہ موت سے خوبصورت کوئی زندگی نہیں ہے۔

ہر انسان کے اندر کم و بیش گیارہ ہزار صلاحیتیں ایسی ہیں کہ جن میں ہر ایک صلاحیت پورا علم ہے۔ ہر صلاحیت مادی دنیا کے مطابق پی ایچ ڈی ہے یعنی ہر انسان قدرت کا ایسا شاہکار ہے کہ وہ چاہے تو نئے نئے ماورائی علوم میں ساڑھے گیارہ ہزار پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے سکتا ہے۔ انسان ناقابل تذکرہ خلاء ہے۔ خلاء میں روح آئی تو حرکت پیدا ہوئی۔ روح اللہ کا امر ہے۔ اللہ کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’’ہوجا‘‘ اور وہ ’’ہو‘‘ جاتی ہے۔ انسان نے پہلی آواز اللہ کی سنی اور سب سے پہلے اللہ ہی سے بات کی اس کے بعد وہ پانچ حواسوں سے واقف ہوا۔

دنیا فریب ہے۔ فریب خوردہ انسان کی ہر بات فریب ہے۔ جو لوگ یہ بات جان لیتے ہیں ان کے لئے دنیا سکون کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ بادب با نصیب، بے ادب نے نصیب۔ مرشد کریم نے فرمایا:

’’متقی لوگوں پر غیب منکشف ہو جاتا ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے اور حرماں نصیبی ہے کہ ہر مذہب کے پیروکار اللہ، رسول، عذاب، ثواب اور جنت، دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں مگر اللہ کے راستے پر متحد اور متفق نہیں ہوتے۔‘‘

دنیا کانٹوں بھرا راستہ ہے اور پھولوں کی سیج ہے۔ یہ اپنا اپنا انتخاب ہے۔ کوئی کانٹوں بھری زندگی کو گلے لگا لیتا ہے اور کوئی خوشیوں بھری زندگی میں مگن رہتا ہے۔ ہر آدمی پر سکون اور پر مسرت زندگی اپنا سکتا ہے۔ فارمولا یہ ہے کہ:

جو چیز حاصل ہے اس کو شکر کے ساتھ خوش ہو کر استعمال کیا جائے اور جو چیز حاصل نہیں ہے اس پر شکوہ نہ کیا جائے۔ اس کے حصول کے لئے تدبیر کے ساتھ دعا کی جائے۔ اللہ سخی ہے۔ اللہ خود چاہتا ہے کہ مخلوق اللہ کے دسترخوان سے خوش ہو کر کھائے پیئے، ہر بیج ہر گٹھلی پر ازل تا ابد اپنی نوع، اپنے خاندان کا ریکارڈ ہے۔ انسان اللہ کا نائب ہے اور یہ ساری کائنات اللہ کا کنبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاند، سورج، ستارے، زمین انسان کی خدمت گزاری میں مصروف ہیں۔ چونکہ کائنات ایک کنبہ ہے اس لئے سورج کو ہم جب دیکھتے ہیں وہ ہمیں اجنبی نہیں لگتا اور سورج ہمیں کنبے کے افراد سمجھتا ہے۔

سات آسمان سات لاشعور ہیں جو انسان کے اندر ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں۔ بچہ جب خود کفیل نہیں ہوتا، ماں باپ کفالت کرتے ہیں، آدمی کتنا بھی بڑا ہو جائے اللہ کے سامنے بچہ بن کر رہے۔ ایسی صورت میں اللہ بندے کی کفالت کرتا ہے۔ جب ہم پرندوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی تعداد کھربوں سے تجاوز کر جاتی ہے اور جب کسان کی طرف دیکھتے ہیں تو کرم خوردہ اناج بھی جھاڑو سے سمیٹ لیتا ہے۔

صدالصدور حضرت قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

’’پرندے جب بھوک کا تقاضہ رفع کرنے کے لئے زمین پر اڑتے ہیں اس سے پہلے کہ پرندوں کے پنجے زمین پر لگیں قدرت زمین پر پرندوں کے لئے دانہ پیدا کر دیتی ہے۔‘‘

اللہ خوبصورت آواز پسند کرتا ہے، خود قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’آواز تو گدھے کی بھی ہے۔‘‘ میرے بچے عظیمی خوش گفتار، خوش اخلاق، خوش الحاج اور خوش باطن ہیں۔ عظیمی بچہ کبھی ایک نہیں ہوتا۔ جہاں وہ ایک ہوتا ہے وہاں دوسرا اللہ ہوتا ہے، جہاں دو عظیمی ہوتے ہیں وہاں تیسرا اللہ ہوتا ہے۔ عظیمی ایک اور ایک دو نہیں ہوتے، ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 222 تا 225

صدائے جرس کے مضامین :

ِ انتساب  ِ عرضِ ناشر!  ِ 1 - حیات و موت  ِ 2 - تصوف  ِ 3 - اللہ کی رسی  ِ 4 - حکمرانی  ِ 5 - نفی  ِ 6 - آنکھیں  ِ 7 - حضرت مریمؑ  ِ 8 - محبوب بغل میں  ِ 9 - دولت پرستی  ِ 10 - مالک الملک  ِ 11 - اشرف المخلوقات  ِ 12 - دل کی باتیں  ِ 13 - طرز فکر  ِ 14 - روپ بہروپ  ِ 15 - مساجد  ِ 16 - لیلۃ القدر  ِ 17 - حوا  ِ 18 - زمین کی پکار  ِ 19 - نورانی پیکر  ِ 20 - روشنی قید نہیں ہوتی  ِ 21 - اے واعظو! اے منبر نژینو!  ِ 22 - علم و عمل  ِ 23 - روحانیت  ِ 24 - اسوۂ حسنہ  ِ 25 - اولیاء اللہ کی طرز فکر  ِ 26 - ایثار کی تمثیلات  ِ 27 - درخت زندگی ہیں  ِ 28 - صلوٰۃ کا مفہوم  ِ 29 - پانی کی فطرت  ِ 30 - مخلوقات  ِ 31 - شک  ِ 32 - خود آگاہی  ِ 33 - روشن چراغ  ِ 34 - کہکشاں  ِ 35 - ماضی  ِ 36 - عقل و شعور  ِ 37 - بارش  ِ 38 - احسن الخالقین  ِ 39 - نو کروڑ میل  ِ 40 - پیغمبرانہ طرز فکر  ِ 41 - رزاق  ِ 42 - خیالات  ِ 43 - عروج و زوال  ِ 44 - مخلوق کی خدمت  ِ 45 - معجزہ  ِ 46 - بغدادی قاعدہ  ِ 47 - سوچ  ِ 48 - شق القمر  ِ 49 - اندر کی آنکھ  ِ 50 - سچا مذہب  ِ 51 - دو یونٹ  ِ 52 - شعور لا شعور  ِ 53 - توانائی  ِ 54 - سلطان  ِ 55 - وجدانی دماغ  ِ 56 - حاتم طائی  ِ 57 - احسن تقویم  ِ 58 - عامل اور معمول  ِ 59 - گھر گھر دستک  ِ 60 - پرندے  ِ 61 - بجلی آگئی  ِ 62 - روٹی  ِ 63 - اللہ کا نظام  ِ 64 - ایٹم بم  ِ 65 - دائرہ اور مثلث  ِ 66 - دنیا کی کہانی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)