احسن الخالقین

کتاب : اسم اعظم

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=749

سوال: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں۔‘‘ اس آیت مبارکہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تخلیق کا وصف اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بھی کسی کو حاصل ہے۔ اگر یہ وصف اللہ کے علاوہ بھی کسی کو حاصل ہے تو اس کی کیا حیثیت ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق میں کوئی ان کا ثانی نہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے جہاں کائنات کی تخلیق کا تذکرہ کیا ہے وہاں یہ بات ارشاد کی ہے کہ ’’میں تخلیق کرنے والوں میں سب سے بہتر ہوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بحیثیت خالق کے ایک ایسے خالق ہیں کہ جن کی تخلیق میں وسائل کی پابندی زیر بحث نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ کے ارادے میں جو چیز جس طرح اور جس خدوخال میں موجود ہے، جب وہ اس چیز کو وجود بخشنے کا ارادہ کرتے ہیں تو حکم دیتے ہیں اور اس کی حکم کی تعمیل کے لئے تخلیق کے اندر جتنے وسائل ضروری ہیں وہ سب وجود میں آ کر اس تخلیق کو عمل میں لے آتے ہیں۔
’’خالقین‘‘ کا لفظ ہمیں یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بھی تخلیق کرنے والے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے علاوہ دوسری ہر تخلیق وسائل کی پابند اور محتاج ہے اس کی مثال آج کے دور میں بجلی سے دی جا سکتی ہے۔ جب بندوں نے بجلی سے دوسری ذیلی تخلیقات کو وجود میں لانا چاہا تو اربوں کھربوں چیزیں وجود میں آ گئیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ وصف ہے کہ اللہ نے ایک لفظ ’’کن‘‘ کہہ کر بجلی کو وجود بخش دیا۔ آدم نے اختیار طور پر جب بجلی کے علم کے اندر تفکر کیا اس بجلی سے ہزاروں چیزیں وجود میں آ گئیں۔ بجلی سے جو چیزیں وجود میں آئیں وہ انسان کی تخلیق ہیں۔ مثلاً ریڈیو، ٹی وی اور بے شمار دوسری چیزیں۔ روحانی نقطۂ نظر سے اللہ کی اس تخلیق میں سے دوسری ذیلی تخلیقات کا مظہر بننا دراصل آدم زاد کا بجلی کے اندر تصرف ہے۔ یہ وہی علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کو سکھا دیا تھا۔ ’’علم الاسماء‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک ایسا علم سکھا دیا کہ جو براہ راست تخلیقی فارمولوں سے مرکب ہے۔ جب انسان اس علم کو گہرائی کے اندر جا کر حاصل کرتا ہے اور اس علم کے ذریعے تصرف کرتا ہے تو نئی نئی چیزیں وجود میں آ جاتی ہیں۔
کائنات دراصل علم ہے، ایسا علم جس کی بنیاد اور حقیقت سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو واقف کر دیا ہے لیکن اس وقوف کو حاصل کرنے کے لئے ضروری قرار دے دیا گیا ہے کہ بندے علم کے اندر تفکر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ہم نے لوہا نازل کیا اور اس کے اندر لوگوں کے لئے بے شمار فائدے محفوظ کر دیئے۔
جن لوگوں نے لوہے(بمعنی دھات) کی حیثیت اور طاقت کو تسلیم کر کے لوہے کے اندر گہرائی میں تفکر کیا تو لوہے کی لامحدود صلاحیتیں سامنے آ گئیں اور جب ان صلاحیتوں کو استعمال کر کے لوہے کے اجزائے ترکیبی کو متحرک کر دیا تو لوہا ایک ایسی عظیم شئے بن کر سامنے آیا کہ جس سے موجودہ سائنس کی ہر ترقی کسی نہ کسی طرح وابستہ ہے۔ یہ ایک تصرف ہے جو وسائل میں کیا جاتا ہے یعنی ان وسائل میں جن وسائل کا ظاہر وجود ہمارے سامنے ہے۔ جس طرح لوہا ایک وجود ہے اسی طرح روشنی کا بھی ایک وجود ہے۔ وسائل کی حدود سے گزر کر یا وسائل کے علوم سے آگے بڑھ کر جب کوئی بندہ روشنیوں کا علم حاصل کر لیتا ہے تو بہت ساری تخلیقات وجود میں لا سکتا ہے۔ وسائل میں محدود رہ کر ہم سونے کے ذرات کو اکٹھا کر کے ایک خاص پروسیس سے گزار کر سونا بناتے ہیں۔ لوہے کے ذرات اکٹھا کر کے خاص پروسیس سے گزار کر ہم لوہا بناتے ہیں لیکن وہ بندہ جو روشنیوں میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس کے لئے سونے کے ذرات کو مخصوص پروسیس سے گزارنا ضروری نہیں ہے۔ وہ اپنے ذہن میں روشنیوں کا ذخیرہ کر کے ان مقداروں کو الگ کر لیتا ہے جو مقداریں سونے کے اندر کام کرتی ہیں اور ان مقداروں کو ایک لفظ پر مرکوز کر کے ارادہ کرتا ہے ’’سونا‘‘ اور سونا بن جاتا ہے۔
ہم بتا چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں کسی کے محتاج نہیں ہیں۔ جب وہ کوئی چیز تخلیق کرتے ہیں تو تخلیق کے لئے جتنے وسائل موجود ہونا ضروری ہیں وہ خود بخود موجود ہو جاتے ہیں۔ بندے کا تصرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تخلیق میں تصرف کرتا ہے۔ اس تصرف کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ وسائل میں محدود رہ کر وسائل کو مجتمع کر کے کوئی نئی چیز بنانا اور دوسرا طریقہ روشنیوں میں تصرف کرنا ہے۔ یعنی کوئی چیز جن روشنیوں پر قائم ہے۔ ان روشنیوں کو متحرک کر کے کسی چیز کو تخلیق کرنا۔
روحانی دنیا میں ان روشنیوں کا نام نسمہ اور سائنسی دنیا میں ان رشنیوں کا نام اورا(Aura) ہے۔ جب کوئی بندہ روشنیوں کے اس علم کو جان لیتا ہے تو اس کے اوپر تخلیقی فارمولے واضح ہونے لگتے ہیں۔
انسان اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی تخلیق ہے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تصرف کرنے کی قدرت رکھتی ہے اور یہ علم اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتقل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ یہ بات جانتے ہیں کہ انسان سے ذیلی تخلیقات وجو دمیں آتی رہیں گی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے احسن الخالقین ارشاد فرمایا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 133 تا 135

اسم اعظم کے مضامین :

ِ 1.1 - نظریہ رنگ و روشنی  ِ 1.2 - فوٹان اور الیکٹران  ِ 1.3 - کہکشانی نظام اور دو کھرب سورج  ِ 1.4 - دو پیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور  ِ 1.5 - چہرہ میں فلم  ِ 5.8 - مراقبہ مرتبہ احسان اور روشنیوں کا مراقبہ  ِ 1.6 - آسمانی رنگ کیا ہے؟  ِ 1.7 - رنگوں کا فرق  ِ 1.8 - رنگوں کے خواص  ِ 2.1 - مرشد کامل سے بیعت ہونا  ِ 2.2 - مرشد کامل کی خصوصیات  ِ 2.3 - تصور سے کیا مراد ہے؟  ِ 2.4 - علمِ حصولی اور علمِ حضوری میں فرق  ِ 2.5 - اسم اعظم کیا ہے  ِ 2.6 - وظائف نمازِ عشا کے بعد کیوں کیئے جاتے ہیں  ِ 2.7 - روزہ روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے  ِ 2.8 - نام کا انسانی زندگی سے کیا رشتہ ہے اور نام مستقبل پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں؟  ِ 2.9 - جب ایک ہی جیسی اطلاعات سب کو ملتی ہیں تو مقدرات اور نظریات میں تضاد کیوں ہوتا ہے؟  ِ 3.1 - نماز اور مراقبہ  ِ 3.2 - ایسی نماز جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق حضور قلب اور خواہشات، منکرات سے روک دے کس طرح ادا کی جائے؟  ِ 3.3 - روح کا عرفان کیسے حاصل کیا جائے؟  ِ 3.4 - مخلوق کو کیوں پیدا کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.5 - چھ دائرے کیا ہیں، تین پرت سے کیا مراد ہے؟  ِ 3.6 - روح انسانی سے آشنا ہونے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.7 - مراقبہ کیا ہے۔ مراقبہ کیسے کیا جائے؟  ِ 4.1 - تعارف سلسلہ عظیمیہ  ِ 4.2 - سلسلہ عظیمیہ کے اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط  ِ 5.1 - مراقبہ سے علاج  ِ 5.2 - مراقبہ کی تعریف  ِ 5.3 - مراقبہ کے فوائد اور مراقبہ کی اقسام  ِ 5.4 - مراقبہ کرنے کے آداب  ِ 5.5 - سانس کی مشق  ِ 5.6 - مراقبہ کس طرح کیا جائے۔ خیالات میں کشمکش  ِ 5.7 - تصورِ شیخ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے  ِ 5.9 - مراقبہ سے علاج  ِ 6.1 - سانس کی لہریں  ِ 6.2 - روحانی علم کو مخفی علم یا علم سینہ کہہ کر کیوں عام نہیں کیا گیا  ِ 6.3 - اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے اور توکل کرنے کے کیا معانی ہیں  ِ 6.4 - رحمانی طرز فکر کو اپنے اندر راسخ کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے  ِ 6.5 - واہمہ، خیال تصور اور احساس میں کیا فرق ہے؟  ِ 6.6 - ہمارا ماحول ہمیں کس حد تک متاثر کرتا ہے؟  ِ 7 - کیا نہیں ہوں میں رب تمہارا؟  ِ 7.2 - لوح اول اور لوح دوئم کیا ہیں  ِ 7.3 - علمِ حقیقت کیا ہے  ِ 7.4 - علمِ حصولی اور علم حضوری سے کیا مراد ہے  ِ 7.5 - روح کیا ہے  ِ 8 - انسان اور آدمی  ِ 9 - انسان اور لوحِ محفوظ  ِ 10.1 - احسن الخالقین  ِ 10.2 - روحانی شاگرد کو روحانی استاد کی طرز فکر کس طرح حاصل ہوتی ہے۔  ِ 10.3 - روحانی علوم حاصل کرنے میں زیادہ وقت کیوں لگ جاتا ہے؟  ِ 10.4 - تصورات جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں  ِ 10.5 - یادداشت کیوں کمزور ہو جاتی ہے؟  ِ 10.6 - تصور سے کیا مراد ہے  ِ 10.7 - کسی بزرگ کا قطب، غوث، ابدال یا کسی اور رتبہ پر فائز ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟  ِ 10.8 - تصور کیا ہے  ِ 10.9 - کرامت کی توجیہہ  ِ 10.10 - مختلف امراض کیوں پیدا ہوتے ہیں  ِ 11 - تصوف اور صحابہ کرام  ِ 12 - ایٹم بم  ِ 13 - نو کروڑ میل  ِ 14 - زمین ناراض ہے  ِ 15 - عقیدہ  ِ 16 - کیا آپ کو اپنا نام معلوم ہے  ِ 17 - عورت مرد کا لباس  ِ 18 - روشنی قید نہیں ہوتی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)