ابو طالب کی گھاٹی

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=338

ابو طالب قریش کی ریشہ دوانیوں سے باخبر تھے۔ قریش انہیں محمدالرّسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور پشت پناہی سے دست بردار ہونے پر مجبور کر رہے تھے۔ ابو طالب نے اپنے جد اعلیٰ عبد المناف کے دو صاحبزادوں ہاشم اور مطلب کے خاندانوں کو جمع کیا اور انہیں امادہ کیا کہ اپنے بھتیجے محمدؐ کی حمایت و حفاظت کا جو کام اب تک وہ تنہا انجام دیتے رہے ہیں سب مل کر اس کام کو انجام دیں۔

عربی حمیت کا تقاضا تھا کہ اہلِ خاندان اس بات پر راضی ہوجائیں سب افرادِ خاندان اس تجویز سے متفق ہوئے اور انہوں نے ابو طالب کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن ابو طالب کے بھائی ابولہب نے مشرکینِ قریش کا ساتھ دیا۔

حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام اور قبیلہ بنی ہاشم و بنی مطلب کا محمدؐ کی حمایت کے لئے عہد و پیمان کفّار کو پسند نہیں اۤیا۔ حبشہ کے بادشاہ نے بھی درخواست مسترد کردی تھی۔ مشرکین جمع ہوئے اور بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف عہد و پیمان کیا کہ ان سے ہر قسم کا تعلق ختم کرلیا جائے نہ ان سے خرید و فروخت کی جائے نہ ان سے شادی بیاہ کریں۔ تاوقتیکہ محمدؐ کو قتل کرنے کے لئے ہمارے حوالے نہ کردیں۔

اس معاہدہ پر تمام سردارانِ قریش نے دستخط کئے اور خانہ کعبہ کی دیوار پر اۤویزاں کر دیا۔

محمدالرّسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے تمام مسلمانوں کو مکہ سے نکال دیا گیا۔ اس موقع پر بنو ہاشم نے حضرت محمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی حمایت ترک نہ کی اور وہ بھی دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ مکہ سے باہر نکل اۤئے۔ ان پیغمبرِ اسلام سیّدناعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ وہ عزیز بھی شامل تھے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ابو طالب کی غیرت اور حمیت نے گوارہ نہ کیا کہ وہ اپنے بھتیجے کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں۔

سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے اہلِ خاندان کے ہمراہ جس گھاٹی( قریش کے دس قبیلوں میں سے ہر قبیلہ مکہ کے گرد و نواح میں پھیلی ہوئی پہاڑیوں میں قدرتی طور پر بن جانے والے درّوں اور گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی یا درّہ کا مالک تھا۔ ان گھاٹیوں کو شعب کہتے ہیں جب کوئی اجنبی شخص قریش کے کسی قبیلے سے پناہ مانگتا تو قبیلہ اس کے ٹھہرنے کا بندوبست اپنی مخصوص شعب یا گھاٹی میں کرتا تھا۔ ) میں پناہ گزین تھے وہ ابی طالب کی ملکیت تھی۔ جو گھاٹی درماندہ لوگوں کی پناہ گاہ تھی اس میں ابی طالب اور خاندان کے دیگر افراد قیام کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

قریش نے مسلمانوں کو اشیائے ضرورت کی فروخت پر پابندی لگادی تھی۔ اس پر ستم یہ کہ شعب ابی طالب کسی قافلہ کی گزرگاہ بھی نہیں تھی۔ جس سے کھانے پینے کی چیزیں مہیّا ہوسکتی۔ مسلمانوں نے شعب ابی طالب میں انتہائی دردناک مصیبتوں اور بھیانک پریشانیوں میں وقت گزارا۔

انہی دنوں جب مسلمان شعب ابی طالب میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے ایک دن حضرت خدیجہؓ کا بھتیجا اپنی پھوپھی کے لئے کچھ اشیائے ضرورت لے کر باہر نکلا۔ قریش کے افراد نے جو نگرانی کر رہے تھے حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے کو مکہ سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ لیا انہوں نے سامان ضبط کرکے اسے اتنا زدوکوب کیا کہ وہ تین دن تک بستر سے نہیں اٹھ سکا۔ ان دنوں میں مکہ کے کچھ بزرگوں نے مصالحت کی کوشش کی اور قریش سے کہا کہ وہ اجازت دیں کہ محمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے ساتھی واپس چلے اۤئیں۔ لیکن قریش کے بزرگوں نے جواب دیا کہ اگر محمدؐ اپنے دین سے دستبردار ہوجائیں تو مکہ واپس اۤسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پھر وہیں پر اپنی موت کا انتظار کریں ہم انہیں مکہ میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے ساتھیوں نے تین سال تک تنگی ترشی اور سختی کو برداشت کیا۔ شعب ابی طالب میں مسلمانوں کے پاس گھریلو سامان نہیں تھا اور مکہ کی سب سے زیادہ مالدار خاتون حضرت خدیجہؓ کے پاس صرف ایک ہانڈی اور مٹی کا پیالہ رہ گیا تھا اور ایک دن وہ پیالہ بھی ٹوٹ گیا۔ شعب ابی طالب میں مسلسل رنج و الم اور دائمی بھوک کے علاوہ ایک اور حادثہ بھی رونما ہوا وہ یہ تھا کہ سیّدنا حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی زوجہ حضرت خدیجہؓ عسرت اور تنگدستی کے باعث بیمار ہوگئیں اور چونکہ علاج معالجہ کے لئے ضروری دواء اور مناسب غذاء موجود نہ تھی لہٰذا سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زوجہ سن۶۱۹ عیسوی میں انتقال فرما گئیں۔ ( مسلمانوں نے اس سال کو عام الحزن کا نام دیا ہے۔ )

جب حضرت خدیجہؓ نے زندگی کو خیر باد کہا تو ان کی عمر ۶۵برس تھی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے پچاس سال گزر چکے تھے۔ جب حضرت خدیجہؓ نے شعب ابی طالب میں زندگی کو الوداع کہا تو ان کے لئے کفن بھی نہ تھا۔ لہٰذا حضرت خدیجہؓ کو صوقعہ( صوقعہ دراصل ایک ایسی لمبی چادر کو کہتے تھے جسے عرب خواتین اپنے سر ڈھانپنے کے لئے استعمال کرتی تھیں۔ ) میں لپیٹ کر سپردِ خاک کردیا گیا۔

حضرت خدیجہؓ کی وفات کے دو دن بعد مسلمانوں کو دوسرا صدمہ پہنچا اور پیغمبرِ اسلام حضورؐ کے چچا ”ابی طالب” نے چھیاسی سال کی عمر میں دارِ فانی کو چھوڑ دیا۔ انہی دنوں کعبہ میں لٹکے ہوئے بائیکاٹ کے فرمان کو دیمک نے چاٹ لیا۔ قریش نے جب یہ دیکھا کہ دیمک نے حضرت محمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور دوسرے مسلمانوں کو شہر بدر کرنے کر فرمان کو چاٹ لیا ہے اور صرف ”خدا” کا نام باقی رہنے دیا ہے تو ان پر انجانا خوف طاری ہوگیا۔ قبائل قریش ہی میں سے چند حلیم الطبع افراد نے اۤواز بلند کی کہ اس ظالمانہ معاہدے کو ختم کرکے بنو ہاشم کو محاصرہ سے باہر لایا جائے۔ سوائے ابوجہل کے کسی نے اس کی مخالفت نہ کی۔

جب مسلمان شعب ابی طالب سے واپس لوٹے تو مسلسل فاقہ کشی، بھوک اور پیاس کے باعث بے حد کمزور ہوچکے تھے۔ ان کے چہرے ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے تھے اور ان کے بدن کی کھال سورج کی تمازت سے بری طرح جھلس گئی تھی۔

ایک دن ابی لہب نے بنو ہاشم کے تمام افراد کو ایک ضیافت میں شرکت کی دعوت دی اورحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی مدعو کیا۔ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو ابی لہب نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”میں چاہتا ہوں کہ بنو ہاشم کے تمام افراد کے سامنے تجھ سے تیرے جد عبدالمطلب کے بارے میں سوال کروں اور پوچھوں کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ مشرکین جہنم میں جائیں گے تو تمہارے خیال میں عبدالمطلب جنت میں ہیں یا جہنم میں؟”

حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب میں قراۤن کی یہ اۤیت تلاوت کی:

ترجمہ:

”پیغمبر اور وہ لوگ جو ایمان لائے خدا سے مشرکوں کے لئے مغفرت طلب نہ کریں چاہے وہ لوگ ان کے اقرباء میں سے ہوں۔ ” (توبہ۔۱۱۴ )

اس کے بعد ابی لہب نے ابی طالب کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ اۤیا میرا بھائی ابی طالب بخش دیا گیا ہے یا نہیں۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب دیا کہ ابی طالب جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو مسلمان نہیں ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے اجداد کے دین کو نہیں چھوڑا تھا لہٰذا ان کا معاملہ بھی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

پھر ابی لہب نے کچھ اور بڑوں کا نام لیا جو محمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اجداد میں سے تھے۔ ابی لہب نے پوچھا یہ لوگ بخش دئے جائیں گے یا نہیں۔ جواب میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم قطعی ہے۔ اور اس میں تغیّر و تبدّل نہیں ہوتا۔ قبیلے کے سربراہ ابی لہب نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ اۤیا مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ محمدؐ کو قبیلہ بنی ہاشم سے باہر نکال دوں؟ سب لوگوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ قبیلہ کے سربراہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو قبیلہ بدر کردے۔ ابی لہب نے اس ہی وقت اعلان کردیا کہ میں نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے قبیلے سے نکال دیا ہے اور اۤج کے بعد ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

جزیرۃالعرب میں جب کسی کو قبیلے سے نکال دیا جاتا تو اس کی حیثیت اتنی ناچیز ہوجاتی تھی کہ اسے قبائلی جرگہ میں انصاف کی درخواست کرنے کا حق بھی نہیں پہنچتا تھا۔ جزیرۃالعرب میں قبیلہ سے خارج ہونے والا شخص تمام سماجی اور معاشی حقوق سے محروم ہوجاتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اس سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا جاتا تھا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 84 تا 91

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)