آپا جیؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2860

آپا جیؒ میری ماں ہیں اور نام امت الرحمان ہے۔ میری ماں نہایت عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں، سات وقت کی نمازی تھی نذر و نیاز بہت کرتی تھیں۔ گھر میں ہر ماہ کسی نہ کسی بزرگ یا امام کی فاتحہ ہوتی تھی، ڈیوڑھی میں مہمان خانہ بنایا ہوا تھا۔ بلاتخصیص کوئی بھی شخص تخت پر آ کر بیٹھ جاتا تھا مہمان کو تازہ روٹی پکا کر کھلاتی تھیں۔ مہمانوں کا راشن ایک الماری میں مقفل رہتا تھا۔ الماری اس وقت کھلتی تھی جب مہمان آئے یا اس میں سامان رکھا جائے۔ ہر کام میں اللہ کا شکر ادا کرتی تھیں، بڑی بیٹی آمنہ خاتون کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ خالہ زاد بہن نے بیٹی کے انتقال کی خبر دی تو فوراً کہا۔”یا اللہ تیرا شکر ہے۔” کچھ توقف کے بعد رونے لگیں۔

بڑی بھابی نے اپنا خواب اس طرح سنایا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ تہجد کی نماز کے لئے وضو کرنے جا رہی ہوں کہ یکایک روشنی پھیلی اور پھر نور کا جھماکہ ہوا اور میں نے دیکھا کہ میرے آقاﷺ، میری جان ان پر فدا ہو، میرے سامنے کھڑے ہیں۔

میں نے کہا۔ السلام علیکم! یا رسول اللہﷺ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ وعلیکم السلام۔ پھر دریافت فرمایا:”امت الرحمٰن کہاں ہیں؟” میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ!وہ سامنے والے کمرے میں سو رہی ہیں۔ میں ابھی جگاتی ہوں۔ حضور پرنورﷺ نے فرمایا:”نہیں۔ سونے دو جب اٹھ جائے تو کہہ دینا مرتضیٰﷺ آئے تھے سلام کہہ گئے ہیں۔”

مؤلف کتاب”اولیاء اللہ خواتین” خواجہ شمس الدین عظیمی نے خواب میں دیکھا کہ مٹی کا بنا ہوا ایک کچا گھر ہے۔ چار دیواری پر چکنی مٹی پتی ہوئی ہے۔ وہاں سیدناﷺ ایک خاتون سے خوش ہو کر باتیں کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی میری والدہ آپا جی کھڑی ہیں اور میں اس وقت سات آٹھ سال کا بچہ ان کے قریب کھڑے ہو کر نہایت حیرت کے ساتھ حضورﷺ کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ یہ خاتون کتنی خوش نصیب اور مقدس ہیں کہ حضورﷺ ان سے محبت سے بات کر رہے ہیں میرا یہ خیال حضورﷺ تک پہنچ گیا۔

حضورﷺ نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا اور فرمایا: “میاں یہ خاتون بی بی خدیجہ ہیں۔” یہ سن کر بی بی خدیجہؓ نے فرمایا: “یا رسول اللہﷺ! یہ عورت” (آپا جی کی طرف اشارہ کر کے کہا) اس کی ماں ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: “ہاں میں جانتا ہوں یہ امت الرحمٰن ہے اور بہت صابرہ ہے۔” آپا جی مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری سے بیعت ہوئیں۔ بیعت ہونے کے بعد مرشد کریم کی خدمت میں عرض کیا: “یا حضرت آپ نے سب کو سبق دیا ہے، پڑھنے کو تسبیحات اور نفلیں تلقین کی ہیں، مجھے کچھ نہیں بتایا۔” حضرت سہارنپوری نے فرمایا: “تیرا سبق یہ ہے کہ تو بچوں کی صحیح تربیت کر دے اور اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کر دے تو میرا کام کر دے میں تیرا حق تجھے پہنچا دونگا۔”

ہم بہن بھائیوں میں سے کوئی یہ کہتا تھا کہ میں فلاں چیز نہیں کھاتا۔ آپا جی کہہ دیتی تھیں: “جاؤ کھیلو تمہیں بھوک نہیں ہے۔” بچے ضد کرتے تھے مگر آپا جی وہی کھانا کھلاتی تھیں جو گھر میں موجود ہوتا تھا۔ البتہ اگلے روز یا شام کو بچے کی فرمائش پوری کر دیتی تھیں۔

رات کو تہجد کے بعد اپنے پیر کی شان میں قصیدے پڑھتی تھیں اور بے قرار ہو کر روتی تھیں۔ میں نے ایک روز پوچھا: “آپا جی آپ کے پیر صاحب نے آپ کو کچھ دیا بھی ہے؟” بولیں:”بھائی میں نے اپنی ڈیوٹی پوری کر دی۔ بچوں کی دیکھ بھال کر کے انہیں نیکی کے راستے پر چلایا۔ اللہ کا شکر ہے میرے مرشد نے مجھے نواز دیا۔” میں نے پوچھا:”کیا نواز ش ہوئی؟” فرمانے لگیں:”بس نواز دیا میں مطمئن ہو اور خوش ہوں۔”

میرے ابا جی دین دار آدمی تھے، شریعت اور طریقت میں ان کی حیثیت ممتاز تھی، اکل حلال کا بطور خاص اہتمام کرتے تھے، وکالت کے پیشے سے منسلک تھے۔ ایک روز خیال آیا کہ وکیل کی کامیابی اس میں ہے کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کر کے مقدمہ جیت لے، آپا جی سے اس بات کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا: “اس طرح تو ہمارے بچوں کی تربیت صحیح نہیں ہو گی۔ دونوں میاں بیوی نے متفق ہو کر فیصلہ کیا کہ وکالت کا پیشہ ترک کر دیا جائے۔ حالات جب نامساعد ہو گئے تو لکڑی کی ایک ٹال پر ایک روپیہ روز اجرت پر لکڑیاں پھاڑنے کی مزدوری شروع کر دی۔ اللہ نے یہ کرم کیا کہ درخت کی جانچ آ گئی کہ اس درخت میں اتنی سوختہ لکڑی ہے، اتنے تختے نکلیں گے اور جڑوں میں سے  اتنا کوئلہ بن جائے گا۔ اس فن میں اس قدر مہارت ہو گئی کہ جنگل خریدنے والے ابا جی کی خدمات حاصل کرتے تھے۔ وارے کے نیارے ہو گئے اور اللہ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ پانچ حج کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک حج پیدل کیا تھا جس میں پیر شدید زخمی ہو گئے تھے۔

آپا جی نے اپنے بچوں کے ساتھ دو بچوں کو بھی دودھ پلایا اور ان کی پرورش کی ایک بچے کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ الحمدللہ اب وہ بچہ اسلامک اسٹیڈیز میں Ph.Dہے اور اسے سیرت طیبہ پرکتاب لکھنے پر صدارتی ایوارڈ ملا ہے۔ دوسرے بچے کی ماں بیمار تھی اس بچے نے میرے (مولف کتاب کے) ساتھ دودھ پیا ہے۔ صبح، دوپہر، شام، رات بچے کی ماں اپنے شوہر کے ساتھ بچے کو آپا جی کے پاس بھیج دیتی تھی اور آپا جی اسے دودھ پلا کر واپس ماں کے پاس بھیج دیتی تھیں۔

میرے رضاعی بھائی عابد اللہ انصاری نے پرنم چشم کے ساتھ شکاگو امریکہ میں مجھے اپنے دوستوں کی مجلس میں یہ واقعہ سنایا تھا۔ محترم بھائی شمس الدین عظیمی صاحب کی والدہ ماجدہ نے میری پرورش کی ہے جب میں نے ہوش سنبھالا تو کسی خاتون نے بتایا کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے یتیم سمجھ کر خالہ امت الرحمٰن نے دودھ پلایا ہے۔ میں روتا ہوا آپا جی کے پاس گیا ان سے پوچھا میری ماں کون ہے؟ آپا جی بولیں۔”میں تیری ماں ہوں۔”  مجھے یقین نہیں آیا۔ میں نے روتے ہوئے کہا۔”نہیں آپ میری ماں نہیں ہیں۔ میری ماں تو مر گئی ہے۔” آپا نے مجھے سینے سے لگا لیا اور اپنا ہاتھ سامنے کر کے کہا۔”دیکھ میرا ہاتھ سفید ہے تو بھی گورا ہے۔” اور اکبر(میرا چھوٹا بھائی جس کے ساتھ عابد انصاری نے دودھ پیاہے) کی طرف اشارہ کر کے کہا۔”دیکھ اس کا رنگ سانولا ہے اس کی ماں مر گئی ہے میں نے اس کو گود لے کر دودھ پلایا ہے۔” مولف کتاب اولیاء اللہ خواتین کے ساتھ یہ صورتحال ہے کہ مجھے جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے آپا جی خواب میں یا بیداری میں روحانی طور پر میری مدد کرتی ہیں۔ میری ہمت بڑھاتی ہیں اور حوصلہ دیتی ہیں۔

حضرت محمد رسول اللہﷺ کے دربار اقدس و اطہر میں حضرت قلندر بابا اولیاءؒ نے آپا جی کا تعارف بہن کے رشتے سے کرایا اور سیدنا رسول اللہﷺ نے اس رشتے کو بڑی خوشی سے قبول فرما لیا۔

حکمت و دانائی

* ہر لڑکی ماں ہے چاہے وہ بیٹی ہو، بہن ہو، بیوی ہو۔ اللہ نے اسے ذیلی تخلیق کے لئے بنایا ہے، اگر بیوی اللہ کی عطا کردہ ماں کی صفات سے شوہر کی دیکھ بھال کرے تو شوہر کبھی بے وفائی نہیں کرے گا۔

* کرایہ کا گھر ٹوکرے میں گھر، دوسرے کا گھر تھوک کا ڈر، اپنا گھر ہگ ہگ کے بھر۔

* شوہر کے سامنے کبھی اونچی آواز میں نہیں بولنا چاہئے، شوہر خود دھیمی آواز میں بولنا شروع کر دے گا صرف صبر و استقلال کی ضرورت ہے۔

* شوہر آدم کا قائم مقام ہے اور بیوی حوا کی قائم مقام ہے۔

* عورت اور مرد کا عمل خود اس کا نگہبان یا محاسب ہے۔

* اللہ کا شکر ادا کرنے اور صبر کرنے سے سارے کام آسان ہو جاتے ہیں۔

* اولاد کی تربیت کا دارومدار ماں کے کردار سے ہے۔

* عورت کو قدرت نے یہ وصف بخشا ہے کہ جب وہ دل سے کسی کا انتخاب کر لیتی ہے تو ہر طرح کا ایثار کرتی ہے اور ہر رکاوٹ کو پھلانگ جاتی ہے۔

* اچھی عورت مرد کی عفت پر آنچ نہیں آنے دیتی۔

* ہمیشہ اللہ کو اپنا محافظ سمجھو۔

* اولاد اور مال فتنہ ہیں لیکن اگر مال اور اولاد کو اللہ کی امانت سمجھا جائے تو یہ دونوں جنت میں جانے کا پروانہ ہیں۔

* درود شریف کثرت سے پڑھو۔

* نماز قائم کرنے میں سستی نہ کرو۔

* صفائی اور پاکیزگی حسن میں اضافہ کرتی ہے۔

* جس گھر میں مہمانوں کی خوش ہو کر تواضع کی جاتی ہے اس گھر میں برکتیں نازل ہوتی ہیں۔

* ساس بہو کو دل سے بیٹی بنا لے اور بہو دل سے ساس کو ماں سمجھ لے تو گھر میں فساد نہیں ہو گا۔

* سب سے بڑی پریشانی چولہا چکی ہے، ساس کو چاہئے کہ بیٹے کی شادی کے بعد چولہا چکی سے آزاد ہو جائے۔

* جس طرح بیوی کے اوپر ساس کی خدمت فرض ہے اس طرح داماد پر بھی اپنی ساس کی خدمت فرض ہے، ہمارے معاشرے میں یہ بہت بڑی نا انصافی ہے کہ بہو کے اوپر ساری ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں کہ سسرال کی خدمت میں لگی رہے لیکن داماد کے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ بھی اپنی ساس کی خدمت کرے، پیر دبائے، سر میں تیل ڈالے، پیسے ٹکے سے ان کی خدمت کرے۔

* مرید جب اپنی ڈیوٹی پوری کر دیتا ہے تو مرشد اسے نواز دیتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 312 تا 318

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message