یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

آسمانوں میں اعلان

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2956

ایمان ایک ایسا جوہر ہے جس کی چاشنی اور حلاوت دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہے مگر یہ حلاوت اور چاشنی اسی بندے کو حاصل ہوتی ہے جو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اللہ کو محبوب رکھتا ہے۔ وہ بندہ جو اللہ سے زیادہ دوسری چیزوں کو عزیز رکھتا ہے، اللہ کا سچا بندہ اور شیدائی نہیں ہے۔ جب ہم محبت کا تذکرہ کرتے ہیں تو محبت ہم سے کچھ تقاضے کرتی ہے اور وہ تقاضا یہ ہے کہ محبت ہمیشہ قربانی چاہتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ محبت ایک ایسی قلبی کیفیت کا نام ہے جو ظاہر آنکھوں سے نظر نہیں آتی لیکن انسان کا عمل اس بات کی شہادت فراہم کرتا ہے کہ اس کے اندر محبت کا سمندر موجزن ہے یا نہیں۔ ایک آدمی زبانی طور پر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ میں اپنے محبوب سے محبت کرتا ہوں لیکن جب ایثار اور قربانی کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے قول میں سچا ثابت نہیں ہوتا اس کی محبت قابل تسلیم نہیں سمجھی جائے گی۔ خدائے تعالیٰ سے جو لوگ محبت کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اس کے دل میں محبت بھر دیتے ہیں۔ محبت کی یہ خوشبو جب آسمان کی رفعتوں کو چھوتی ہے تو آسمان والے بھی اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب محبت کی یہ خوشبو زمین کی چاروں سمت کو محیط ہو جاتی ہے تو زمین پر بسنے والا ہر فرد خواہ وہ انسان ہو، پرندہ ہو، چرندہ ہو، درندہ ہو، اس شخص سے والہانہ محبت کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
’’جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرئیلؑ کو بلا کر کہتا ہے میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔
حضرت جبریلؑ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور عالم آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ خدا اپنے فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس بندے کے لئے زمین والوں کے دلوں میں قبولیت اور عقیدت پیدا کر دی جاتی ہے۔
جب اللہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ اللہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ یہ محبت ہی تو ہے کہ مخلوق کو زندہ رکھنے کے لئے طرح طرح کے وسائل پیدا کرتا ہے۔ زمین کو اس نے حکم دے رکھا ہے کہ میری مخلوق کے لئے انواع و اقسام کی غذائیں پیدا کر، سورج کو حکم دیا ہے کہ فضا کو مسموم ہونے سے محفوظ کر دے کہ میری مخلوق بیمار نہ ہو جائے۔ چاند کو حکم دیا ہے کہ اپنی ٹھنڈی کرنوں سے پھلوں میں شیرینی پیدا کرتا کہ میری مخلوق خوش نما، خوش ذائقہ اور شیریں پھل کھاتی رہے۔ ہوا کو حکم دیا ہے کہ سبک خرامی کے ساتھ چلتی رہ تا کہ میری مخلوق کی زندگی میں کام آنے والی بنیادی شے آکسیجن(Oxyen) فراہم ہوتی رہے۔ زمین کو اللہ نے نہ اتنا سخت بنایا ہے کہ آدمی جب اس پر چہل قدمی کرے تو اس کے پیر دکھ جائیں، نہ زمین کو اتنا نرم بنایا ہے کہ جب اللہ کی مخلوق زمین پر چلے تو اس کے پیر دھنس جائیں۔ یہ اللہ کی محبت ہی تو ہے کہ اس نے اپنی قدرت کو پابند کر دیا ہے کہ وہ ایک توازن کے ساتھ، معین مقداروں کے ساتھ مخلوق کی پرورش کرتی رہے۔ یہ اللہ کی محبت ہی تو ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو آگ کی جھلسا دینے والی تپش سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک نظام بنایا۔ ایک نظام قائم کیا اور اس نظام سے اپنی مکلف مخلوق کو متعارف کرانے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ اس سے زیادہ محبت کی اور کیا روشن مثال ہو سکتی ہے کہ اللہ نے اپنے رحمت للعالمین محبوب ﷺ کو مخلوق کے درمیان بھیج دیا اور یہ اللہ کی رحمت ہی تو ہے کہ اس نے ماں کے دل میں بچے کی محبت اس طرح پیوست کر دی کہ ماں اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بچے کے اندر انڈیلتی ہے اور پھر بھی خوش ہے۔
اللہ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو یہ بھی چاہتا ہے کہ اللہ سے محبت کی جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشا د گرامی ہے:
’’جب کسی بندے نے اللہ کے لئے کسی بندے سے محبت کی تو اس نے اپنے رب کی تعظیم کی‘‘
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب خاتم النبیین، ختم المرسلین، رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم سے فرماتا ہے:
’’اے ہمارے چہیتے محبوبﷺ! آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، خدا تم کو اپنا محبوب بنا لے گا۔‘‘
خدا سے محبت کے دعوے کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے اور یہ دعویٰ خدا کی نظر میں اسی وقت قابل قبول ہے جب ہم خدا کے رسولﷺ کی پیروی کریں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 14 تا 17

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message