This content is also available in: اردو (Urdu)

قواعد و ضوابط

Book :His Divine Grace Qalandar Baba Auliya R.A.

Author :Khwaja Shamsuddin Azeemi

Short URL: http://iseek.online/?p=5578

سلسلہ ٔ عظیمیہ کے تمام دوستوں کی حسب ذیل احکامات پر پابند رہناضروری ہے : ۔
۱۔ ہر حال اور ہر قال میں اپنا روحانی تشخص برقرار رکھیں۔
۲۔ چھوٹے اور بڑے کا امتیاز کئے بغیر سلام میں پہل کریں۔
۳۔ اللہ کی مخلوق کو دوست رکھیں۔
۴۔سلسلہ میں رہ کر آپس میں اختلاف سے گریز کریں۔
۵۔ شیخ کی ہر بات پر بلاچوں و چراعمل کریں۔
۶۔ کسی بھی سلسلہ کے مقابلے میں اپنے سلسلے کو برتر ثابت نہ کریں اس لئے کہ تمام راستے اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔
۷۔ سلسلہ میں جو شخص گند پھیلانے یا منافقت کا سبب بنے اسے سلسلہ سے خارج کردینا چاہیئے۔
۸۔ ذکر و فکر کی جو تعلیم اور ہدایات دی جائیں ان پر پابندی سے عمل کریں ۔ مراقبہ میں کوتاہی نہ کریں۔
۹۔ قرآن پاک کی تلاوت کریں ، معنی اور مفہوم پر غور کریں۔
۱۰۔ صلوۃ (نماز) میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط قائم کریں۔
۱۱۔ کسی دوسرے سلسلے کے طالب علم یا سالک کو سلسلہ عظیمیہ میں طالب کی حیثیت سے قبول کیا جاسکتا ہے۔
۱۲۔ جو شخص پہلے سے کسی سلسلے میں بیعت ہو اسے سلسلہ عظیمیہ میں بیعت نہ کریںَ یہ قانون ہے کہ ایک شخص دو جگہ بیعت نہیں ہوسکتا۔
۱۳۔ سلسلہ عظیمیہ سے بیعت حاصل کرلینے کے بعد نہ تو بیعت توڑی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی فرد اپنی مرضی سے فرار حاصل کرسکتا ہے۔ اس لئے بیعت کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں۔ جو شخص سلسلہ میں داخل ہونا چاہتا ہے اس سے کہا جائے کہ پہلے خوب اچھی طرح دیکھ بھال کرلی جائے کہ ہم اس لائق ہیں بھی یا نہیں۔
۱۴۔ سلسلہ عظیمیہ کے ذمہ دار حضرات پر لازم ہے کہ وہ کسی کو اپنا مرید نہ کہیں۔’’دوست ‘‘کے لقب سے یاد کریں۔
۱۵۔ سلسلہ کا کوئی صاحب مجاز مجلس میں گدّی نشیں ہوکر نہ بیٹھے ۔ نشست و برخاست عوام کی طرح ہو۔
۱۶۔ نوع انسان میں مرد، عورتیں، بچے ، بوڑھے سب آپس میں آدم کے ناطے خالق کائنات کے تخلیقی راز و نیاز ہیں، آپس میں بھائی بہن ہیں۔ نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ بڑائی صرف اس کو زیب دیتی ہے جو اپنے اندر ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اللہ کی صفات کے سمندر کا عرفان رکھتا ہو، جس کے اندر اللہ کے اوصاف کا عکس نمایاں ہو، جو اللہ کی مخلوق کے کام آئے ۔ کسی کو اس کی ذات سے تکلیف نہ پہنچے۔
۱۷۔ شک کو دل میں جگہ نہ دیں۔ جس فرد کے دل میں شک جاگزیں ہو، وہ عارف کبھی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ شک شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ آدم زاد کو اپنی روح سے دور کردیتا ہے۔ روحانی قدروں سے دوری ، آدمی کے اوپر علم و آگہی اور عرفان کے دروازے بند کردیتی ہے۔
۱۸۔ مصور ایک تصویر بناتا ہے پہلے وہ خود اس تصویر کے نقش و نگار سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ مصور اپنی بنائی ہوئی تصویر سے اگر خود مطمئن نہ ہو تو دوسرے کیوں کر متاثر ہوں گے۔ نا صرف یہ کہ دوسرے لوگ متاثر نہیں ہوں گے بلکہ تصویر کے خدوکال مزاق کاہدف بن جائیں گے اور اس طرح خود مصور بے چینی، اضطراب و اضمحلال کے عالم میں چلا جائے گا۔ایسے کام کریں کہ آپ خود مطمئن ہوں ۔ آپ کا ضمیر مردہ نہ ہوجائے اور یہی وہ راز ہے جس کے ذریعے آپ کی ذات دوسروں کے لئے راہ نمائی کاذریعہ بن سکتی ہے۔
۱۹۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ کاروبار حیات میں مذہبی قدروں ، اخلاقی اور معاشرتی قوانین کا احترام کرتے ہوئے پوری پوری جد و جہد اور کوشش کرے لیکن نتیجہ پر نظر نہ رکھے۔نتیجہ اللہ کے اوپر چھوڑ دے اس لئے کہ آدمی حالات کے ہاتھ کھلونا ہے۔ حالات جس طرح چابی بھر دیتے ہیں آدمی اسی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔بیشک اللہ قادر مطلق اور ہر چیز پر محیط ہے۔ حالات پر اس کی گرفت ہے۔ وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے حالات میں تغیر واقع ہوجاتا ہے۔ معاش کے حصول میں معاشرتی اخلاقی اور مذہبی قدروں کا پورا پورا احترام کرنا ہر شخص کے اوپر فرض ہے۔
۲۰۔ تم اگر کسی کی دل آزاری کا سبب بن جاؤ تو اس سے معافی مانگ لو، قطع نظر اس کے کہ وہ تم سے چھوٹا ہے یا بڑا ۔ اس لیئے کہ جھکنے میں عظمت پوشیدہ ہے۔
۲۱۔ تمہیں کسی کی ذات سے تکلیف پہنچ جائے تو اسے بلاتوقف معاف کردو۔ اس لئے کہ انتقام بجائے خود ایک صعوبت ہے۔ انتقام کا جذبہ اعصاب مضمحل کردیتا ہے۔
۲۲۔ غصہ کی آگ پہلے غصہ کرنے والے کے خون میں ارتعاش پیدا کرتی ہے اور اس کے اعصاب متاثر ہوکر اپنی انرجی(ENERGY) ضائع کردیتے ہیں۔ یعنی اس کے اندر قوت حیات ضائع ہوکردوسروں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نوع انسانی کے لئے کسی قسم کے بھی نقصان کو پسند نہیں فرماتے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ جو لوگ غصہ پر قابو حاصل کرلیتے ہیں، اللہ ایسے احسان کرنے والے بندوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
یاد رکھیئے۔۔۔۔۔۔۔! شمع پہلے خود جلتی ہے اور جب وہ اپنی زندگی کاایک ایک لمحہ آگ کی نذر کرکے خود کو فنا کردیتی ہے تو اس ایثار پر پروانے شمع پر جاں نثار ہوجاتے ہیں۔
سلسلہ عظیمیہ تمام نوع انسانی کو،
’’ متحد ہوکر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
آ یئے! عہد کریں کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر پوری انسانیت کے لئے ہم ایک مثال قائم کریں گے اور حضور اکرم ؐ کے مشن کو گھر گھر پہنچا کر ہر فرد کو اس کے اندر بہتے ہوئے علم و آگہی کے سمندر سے روشناس کرائیں گے اور خود بھی اپنی روحانی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سرخرو ہوں گے۔ آمین یارب العالمین !

See this article in printed book on the pages (or page) : 170 to 174

This content is also available in: اردو (Urdu)

His Divine Grace Qalandar Baba Auliya R.A. chapters :

ِ Dedication – to that young generation  ِ 1 - Foreword  ِ 2 - Life Of Qalander Baba Auliya  ِ 3 - Qalander  ِ 4 - Qalanderi Order  ِ 5 - Introduction  ِ 6 - Birth Place  ِ 7 - Education  ِ 8 - Spiritual Training  ِ 9 - Family  ِ 10 - Livelihood  ِ 11 - Induction  ِ 12 - Spiritual Position  ِ 13 - Mannerism  ِ 14 - Childhood and youth  ِ 15 - Precious Qualities  ِ 16 - Greatness  ِ 17 - His Children  ِ 18 - Books Authored  ِ 19 - Wonder-Workings  ِ 20 - Pigeon resurrected  ِ 21 - Deaf and dumb girl  ِ 22 - Incessant raining  ِ 23 - I lifted the basket  ِ 24 - Amount of Alimony  ِ 25 - Angels  ِ 26 - Musk Odor  ِ 27 - Love and sacrifice  ِ 28 - Cholistan Jungle  ِ 29 - Seeing God in everything around  ِ 30 - Down on the ground  ِ 31 - Jinns  ِ 32 - Prediction  ِ 33 - Trees also talk  ِ 34 - Lal Shahbaz Qalander  ِ 35 - Man at Service  ِ 36 - Angels protect  ِ 37 - Lottery Number  ِ 38 - Looking after the family  ِ 39 - Sapphire Ring  ِ 40 - Prayer of a Qalander  ِ 41 - Ilm-e-Ladunni  ِ 42 - Revealing the Future  ِ 43 - 25 Bodies of Auliya  ِ 44 - Freud and Libido  ِ 45 - Astral body  ِ 46 - Saving from operation  ِ 47 - Distant Treatment  ِ 48 - Hundred thousand Rupees  ِ 49 - Polio Cured  ِ 50 - Cap disappears, Jinns appear  ِ 51 - The Scar  ِ 52 - Rain-water turning into pearls  ِ 53 - Degree of Japan  ِ 54 - After eighteen years  ِ 55 - Mouthful of Blood  ِ 56 - Khwaja Ghareeb Nawaz & Bu Ali Shah Qalander  ِ 57 - Shah Abdul Latif Bhitai  ِ 58 - Water turned bitter  ِ 59 - Spiritual treatment of tumor  ِ 60 - Metaphysical or Paranormal  ِ 61 - An article  ِ 62 - Man’s Conscious Experience  ِ 63 - Time is the Past  ِ 64 - Past and Future  ِ 65 - What the senses are?  ِ 66 - Self Realization  ِ 67 - Knower of the Mysteries of Nature  ِ 68 - Attendance in Court of Muhammad PBUH  ِ 67 - Be! And it was  ِ 68 - A Letter  ِ 69 - Thousands year before  ِ 70 - The sun is center, not the Earth  ِ 71 - Freud’s Theory  ِ 72 - Parapsychology  ِ 73 - Parapsychology & psychology  ِ 74 - Publications  ِ 75 - Rubaiyat (Couplets)  ِ limitations don’t allow me to say and share  ِ Just a word that became a story  ِ No idea as to where from I come  ِ In dust is buried the man of dust  ِ Abandoned the flowing springs of wine,  ِ Every breath is a sip of wine for me  ِ When the body would be without life  ِ Hostile world, just a moment  ِ World is an artwork of magic  ِ What’s the outcome of a sip?  ِ Church, temple or the mosques  ِ Arch of light upon the forehead  ِ No one knows of their heads and crowns  ِ Life went by on earth in gloom,  ِ Every particle follows a typical growing  ِ Adam is confined in lines  ِ Scarcity of wine in the wine-shop  ِ All will contemplate one day  ِ Wine cup knows not  ِ Time favors you or not, bewail not  ِ ساقی ! ترا مخمور پئے گا سوبار  ِ کل روز ازل یہی تھی میری تقدیر  ِ ساقی ترے قدموں میں گزرنی ہے عمر  ِ 75.24 - آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بے کار  ِ حق یہ ہے کہ بیخودی خودی سے بہتر  ِ جبتک کہ ہے چاندنی میں ٹھنڈک کی لکیر  ِ پتھر کا زمانہ بھی ہے پتھر میں اسیر  ِ مٹی سے نکلتے ہیں پرندے اڑ کر  ِ معلوم ہے تجھ کو زند گانی کا راز ؟  ِ مٹی کی لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس  ِ ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش  ِ ساقی کا کرم ہے میں کہاں کامئے نوش  ِ 76 - Demise  ِ 77 - Khanqah-e-Azeemia  ِ 78 - Death Anniversary (Urs)  ِ 79 - Introduction of Silsila Azeemia & Rules & Regulations  ِ 80 - The color of Azeemi Spiritual Order  ِ 81 - سنگ بنیاد  ِ 82 - Khanwada-e-Salasil  ِ 83 - Tone  ِ 84 - Aims and Objectives  ِ 85 - قواعد و ضوابط
show all ↓

Please provide your feed back.

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message