This content is also available in: اردو (Urdu)

روحانی سیر

Book :Muraqaba (The art and science of Sufi meditation)

Author :Khwaja Shamsuddin Azeemi

Short URL: http://iseek.online/?p=12875

مسلسل مراقبہ اور استاد کی توجہ و نگرانی کے نتیجے میں شاگرد کے اندر روشنی کا ذخیرہ ہو جاتا ہے اور شعور کا آئینہ صاف ہو جاتا ہے۔ اس وقت شاگرد کی روحانی سیر شروع ہو جاتی ہے۔ اس سیر کے دو مراتب و مدارج ہیں۔ پہلے مرتبے میں آدمی تمام مشاہدات و انکشافات کو اس شعور کے ساتھ دیکھتا ہے کہ وہ بعد (دوری) میں واقع ہیں۔ یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے اور عرش پر تجلی صفات کی نعمت سے سرفراز ہوتا ہے۔  اس طرزِ مشاہدہ کو سیر آفاق کہتے ہیں۔

جب سیر آفاقی پوری ہو جاتی ہے اور طالب علم پر اللہ کا فضل و کرم ہوتا ہے۔ تو سیر انفس شروع ہوتی ہے۔ اس درجے میں واردات و مشاہدات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں کوئی شخص تمام عالم کو اپنے نقطہ ذات کا حصّہ دیکھتا ہے اور موجودات ذات کے اندر نظر آتی ہیں۔ اہل اللہ اس طرز ادراک کو سیر انفس کہتے ہیں۔ سیر انفس کی انتہا پر عارف باللہ، اللہ کو تجلی کی صورت میں ورائے عرش دیکھتا ہے۔ قرآن پاک کی ان دو آیات میں سیر انفس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

  1. ’’وہ تمہارے نفسوں میں ہے، کیا تم دیکھتے نہیں۔‘‘
  2. ’’ہم بہت جلد دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق اور انفس میں ، یہاں تک کہ کھل جائے گا ان پر حق۔‘‘
    (پارہ 25آیت نمبر 1)

جب کوئی شخص اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی باطنی نظر متحرک ہو جائے تو اس سے یہ مراقبہ کرایا جاتا ہے کہ تمام عالم ایک آئینہ ہے جس پر انوار الٰہی کا عکس پڑ رہا ہے۔ اس تصور کے ذریعے سیر آفاقی شروع ہو جاتی ہے۔ اگلے مرحلے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ صاحب ِمراقبہ خود، ایک آئینہ ہے۔ جس میں انوار و صفات الٰہی کا عکس پڑ رہا ہے۔ یہ تصور سیر انفس کی ابتداء کرتا ہے۔ اس سیر کی انتہا پر اپنے اندر موجود آئینے کی بھی نفی کر دی جاتی ہے۔ تا کہ ذات باری تعالیٰ کا ادراک کمال کو پہنچ جائے۔

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ طالب علم پہلے یہ تصور کرتا ہے کہ اس کا قلب عرش سے ایک نسبت و تعلق رکھتا ہے چنانچہ صاحبِ‏‏‎‍ مراقبہ عروج کرتا ہوا عرش تک پہنچ جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں وہ مراقبہ میں اور چلتے پھرتے ان آیات قرآنی کا تصور اپنے اوپر محیط کر دیتا ہے کہ:

  1. ’’وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔‘‘
  2. ’’وہ تمہاری رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔‘‘
  3. وہ تمہارے نفسوں کے اندر ہے، کیا تم نہیں دیکھتے۔‘‘ (قرآن)

See this article in printed book on the pages (or page) : 306 to 308

This content is also available in: اردو (Urdu)

Muraqaba (The art and science of Sufi meditation) chapters :

ِ 1 - Self and the Cosmos  ِ 2 - Mental Concentration  ِ 3 - Spiritual Brain  ِ 4 - Waves of Thoughts  ِ 5 - Third Eye  ِ 6 - Film and Screen  ِ 7 - Motions of Spirit  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 8 - Electrical System  ِ 9 - Three Layers  ِ 10 - Heart of Cosmos  ِ 11 - Concept of Unity (Tawheed)  ِ 12 - Muraqaba and Religion  ِ 13 - Benefits of Muraqaba  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 14 - Levels  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 15 - Subtle Sensations  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 16 - Spiritual Journey  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 17 - Fatah (Exploration)  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 20 - 16-Week Program  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 21 - Spiritual Concept of Healing  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 22 - Muraqaba of Colored Lights  ِ 23 - Station of Ihsaan (murtaba-e-ihsaan)  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 24 - The Hidden World (ghayb)  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام
show all ↓

Please provide your feed back.

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message