This content is also available in: اردو (Urdu)

توجہ الی اللہ

Book :Muraqaba (The art and science of Sufi meditation)

Author :Khwaja Shamsuddin Azeemi

Short URL: http://iseek.online/?p=12939

محمد الرّسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسّلام غار حرا میں مراقبہ سے فارغ ہوئے تو آپ کو ایک اور حکم ربانی ملا۔ سورۃ مزمل میں ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿١﴾ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢﴾ نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ﴿٣﴾ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ﴿٤﴾ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ﴿٥﴾

’’اے کپڑوں میں لپٹنے والے! رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات یعنی نصف رات(کہ اس میں قیام نہ کرو بلکہ آرام کرو) یا اس سے نصف کسی قدر کم کر دو۔ نصف سے کسی قدر بڑھا دو اور قرآن خوب صاف صاف پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری حکم ڈالنے کو ہیں۔‘‘ (سورۃ مزمل آیت 1-5)

رات کے اوقات میں جب ظاہری حواس پر اضمحلال طاری ہوتا ہے اور باطنی حواس بیداری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ محمد الرّسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسّلام قیام فرماتے تھے۔ متواتر کھڑا رہنے سے آپ کے پیروں میں ورم آ جاتا تھا۔

ذہنی یکسوئی اور جسمانی بیداری کے ساتھ یہ قیام اس تعلق کو مضبوط تر کرتا گیا جو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عالم غیب اور ذات خداوندی سے حاصل تھا۔ جیسے جیسے انشراح حاصل ہوتا گیا۔ غیبی مشاہدات اور روحانی عروج بڑھتا گیا۔

انہی احکامات کے سلسلے میں ایک حکم یہ ہے:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ﴿٨﴾ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ﴿۹﴾

’’سب سے قطع ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ جو مشرق اور مغرب کا رب ہے۔‘‘ (سورۃ مزمل آیت8-9)

روحانیت کی اصطلاح میں یہ کوشش جس میں تمام ذہنی رجحانات کو ذات باری تعالیٰ کی طرف موڑ دیا جائے، مراقبہ ذات کہلاتی ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ اللہ سے تعلق حاصل کرنا ہی ساری عبادات اور ریاضت کا جوہر ہے۔چاہے وہ صلوٰۃ ہو، روزہ ہو، زکوٰۃ ہو، حج ہو، ذکر الٰہی ہو یا دوسری نفلی عبادات ہوں۔ ان پاکیزہ نفس لوگوں کے لئے جن کا اللہ سے ذہنی ربط قائم ہو جاتا ہے اللہ کا فرمان ہے:

رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ

“یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دنیاوی زندگی کی خرید و فروخت اللہ کی یاد سے غافل نہیں کر سکتی۔‘‘ (سورۃ نور آیت 37)

انسان کی روحانی اور جسمانی دونوں ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے مذہب نے عبادات کا ڈھانچہ مرتب کیا ہے۔ اللہ سے رابطہ، ذکر الٰہی، اللہ کے حاضر و ناظر ہونے کا تصور رکھنا، صلوٰۃ قائم کرنا، اپنی نفی کر کے اللہ کو فاعل حقیقی تصور کرنا، روزے رکھنا، اللہ پر توکل کرنا، ان سب کا بغور تجزیہ کیا جائے تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ ان اعمال و افکار کے ذریعے ذہنی مرکزیت ایک نقطہ پر قائم رہتی ہے اور یہ نقطہ اللہ کی ذات ہے جو اس کائنات کی حقیقت کبریٰ ہے۔

اللہ کی طرف رجوع رہنے اور قلب کی صفائی کے لئے مذہب نے فرض اعمال کا لائحہ عمل مقرر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حالات جتنی اجازت دیں اور انسان جتنا چاہے نفلی کوششیں کر سکتا ہے۔ تہجدمیں قیام، ذکر و اذکار، تلاوت قرآن، نفلی روزوں کے ذریعے، اسی بات کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تمام عبادات کی روح اعمال و اشغال میں تفکر ہے۔ جب فکر کو حرکت دینے اور فکر کو مضبوط کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے تو فاسد خیالات کمزور پڑ جاتے ہیں اور توجہ الی اللہ، میں گہرائی واقع ہوتی ہے۔ جس وقت کسی شخص کو عبادات میں استغراق حاصل ہو جاتا ہے عبادات کے بھرپور ثمرات نصیب ہو جاتے ہیں۔

See this article in printed book on the pages (or page) : 100 to 102

This content is also available in: اردو (Urdu)

Muraqaba (The art and science of Sufi meditation) chapters :

ِ 1 - Self and the Cosmos  ِ 2 - Mental Concentration  ِ 3 - Spiritual Brain  ِ 4 - Waves of Thoughts  ِ 5 - Third Eye  ِ 6 - Film and Screen  ِ 7 - Motions of Spirit  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 8 - Electrical System  ِ 9 - Three Layers  ِ 10 - Heart of Cosmos  ِ 11 - Concept of Unity (Tawheed)  ِ 12 - Muraqaba and Religion  ِ 13 - Benefits of Muraqaba  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 14 - Levels  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 15 - Subtle Sensations  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 16 - Spiritual Journey  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 17 - Fatah (Exploration)  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 20 - 16-Week Program  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 21 - Spiritual Concept of Healing  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 22 - Muraqaba of Colored Lights  ِ 23 - Station of Ihsaan (murtaba-e-ihsaan)  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 24 - The Hidden World (ghayb)  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام
show all ↓

Please provide your feed back.

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)